کراچی میں ڈکیتی مزاحمت پر ایک اور نوجوان قتل، رواں سال کی تعداد 11 ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2025 GMT
کراچی:
ڈسٹرکٹ کورنگی کے علاقے لانڈھی میں منگل کی دوپہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے شدید زخمی نوجوان دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے زندگی کی بازی گیا، جس کے بعد رواں سال میں جاں بحق افراد کی تعداد 11 تک پہنچ گئی۔
تفصیلات کے مطابق لانڈھی کے علاقے 3 نمبر ایریا 37 اے گلی نمبر 4 میں ڈاکوؤں کی فائرنگ سے 18 سالہ عبداللہ ولد عبدالقادر شدید زخمی ہوا تھا جسے انتہائی تشویشناک حالت میں جناح اسپتال لیجایا گیا جہاں وہ بدھ کی صبح زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے زندگی کی بازی ہار گیا۔
عبداللہ کو زخمی کرنے کے واقعہ کا مقدمہ نمبر 96 سال 2025 بجرم دفعات 394 اور 397 چونتیس کے تحت لانڈھی پولیس نے اس کے ماموں ریاض کی مدعیت میں درج کیا ہے جس میں انھوں نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ وہ گھر میں تھا کہ فائر کی آواز سن کر باہر نکلا تو میرا بھانجا عبداللہ زخمی حالت میں زمین پر گرا ہوا تھا اور معلوم کرنے اس نے بتایا کہ موٹر سائیکل سوار 2 ڈاکو اسلحے کے زور پر موبائل فون چھین رہے تھے جنہوں نے مزاحمت پر گولی ماری اور موبائل چھین کر فرار ہوگئے۔
زخمی عبداللہ کو جناح اسپتال کے آئی سی یو میں زیر علاج عبداللہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا اور اس حوالے سے مقتول کے ماموں نے بتایا کہ عبداللہ میٹرک کر چکا تھا اور کمپیوٹر کورس کر ہا تھا جبکہ وہ تین بہن بھائیوں میں سب سے بڑا تھا ، عبداللہ کو سینے پر گولی لگی تھی جو جان لیوا ثابت ہوئی۔
مقتول کی میت رہائش گاہ سے اٹھائی گئی تو کہرام مچ گیا خواتین شدت غم سے نڈھال ہوگئیں ، اس موقع پر مقتول کے اہلخانہ ، رشتے دار اور علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد جمع تھی علاقے میں سوگ کا سماں تھا اور کئی رقت انگیز مناظر بھی دیکھنے میں آئے۔
موقع پر موجود افراد نے نوجوان عبداللہ کی ڈاکوؤں کے ہاتھوں ہلاکت پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ڈاکوؤں کا سراغ لگا کر انھیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے ، مقتول عبداللہ کی نماز جنازہ گھر کے قریب مسجد کے باہر ادا کی گئی جسے بعدازاں آہوں اور سسکیوں کے ساتھ اسمٰعیل گوٹھ قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔
دوسری جانب ضلع کورنگی میں رواں سال میں اب تک 5 افراد ڈکیتی مزاحمت پر جاں بحق ہوچکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈاکوو ں
پڑھیں:
طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت کا دائرہ وسیع، کئی افغان صوبوں میں جھڑپوں کی اطلاعات
افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمتی سرگرمیوں میں تیزی آنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ مختلف صوبوں سے موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق طالبان مخالف گروہوں نے شمالی اور شمال مشرقی علاقوں میں متعدد کارروائیوں کا دعویٰ کیا ہے، جس سے بعض علاقوں میں سیکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔
رپورٹس کے مطابق ’فریڈم اینڈ جسٹس موومنٹ‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے کمانڈر حامد سیفی کی قیادت میں جنگجوؤں نے 20 جولائی کو صوبہ کاپیسا کے ضلع کوہستان میں مختلف شاہراہوں پر چیک پوسٹیں قائم کیں اور اہم راستوں پر نقل و حرکت کو اپنے کنٹرول میں لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں پرتشدد واقعات، سابق انٹیلیجنس افسر اور قبائلی عمائدین الگ الگ حملوں میں قتل
ادھر صوبہ بدخشاں کے ضلع یفتل میں حالیہ مزاحمتی کارروائی کے بعد ضلع زیبک سے بھی طالبان مخالف حملے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق ٹاپ خانہ کے علاقے میں طالبان کی چیک پوسٹوں کے قریب شدید جھڑپیں جاری ہیں، تاہم ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد کے بارے میں کوئی مصدقہ معلومات سامنے نہیں آئیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق لڑائی قریبی علاقوں تک پھیلنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اس سے قبل ’سپاہیانِ میہن‘ نامی گروپ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے جنگجوؤں نے یفتل میں ضلعی انتظامیہ، پولیس ہیڈکوارٹر اور انٹیلی جنس دفاتر پر قبضہ کرکے طالبان کا پرچم اتار دیا، اسلحہ، فوجی گاڑیاں اور دیگر سامان اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ بعد ازاں طالبان کی اضافی نفری پہنچنے پر علاقے کا دوبارہ کنٹرول طالبان کے ہاتھ میں آنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
تازہ رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ بدخشاں طالبان حکومت کے لیے ایک اہم دباؤ والے علاقے کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے، جہاں بار بار ہونے والی مزاحمتی کارروائیاں طالبان کی سیکیورٹی حکمت عملی اور صوبے پر گرفت کو چیلنج کر رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق طالبان مخالف سرگرمیاں اب صرف پنج شیر اور اندراب تک محدود نہیں رہیں بلکہ کابل، بغلان، تخار، قندوز، کاپیسا، بلخ، ہرات اور بدخشاں سمیت متعدد صوبوں میں بھی مختلف مزاحمتی گروہوں نے کارروائیوں کے دعوے کیے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلح مزاحمت کا دائرہ بتدریج وسیع ہو رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان بدخشاں طالبان فریڈم اینڈ جسٹس موومنٹ