WE News:
2025-04-25@06:06:49 GMT

پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات کی کہانی

اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2025 GMT

پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات کی کہانی

پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ترک صدر رجب طیب اردگان نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے مؤقف کی حمایت کی ہے اور دونوں ملک مسئلہ فلسطین پر بھی یکسان مؤقف رکھتے ہیں۔

 پاکستان اور ترکیہ 2 بردار اِسلامی ملک ہیں اور کئی عالمی مسائل پر ایک دوسرے کے مؤقف کی حمایت کرتے ہیں۔  7 اکتوبر 2023 سے اسرائیلی جارحیت اور فلسطینیوں کی نسل کُشی کے خلاف دونوں ملکوں کے سربراہان سفارتی محاذ پر یہ جنگ ختم کرانے اور فلسطینیوں کو انسانی امداد کی رسائی ممکن بنانے میں پیش پیش رہے۔ اس سلسلے میں ترکی نے دو بار ہنگامی اجلاس بلائے جن میں نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ نے شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور ترکیہ کا غزہ کی صورت حال پر او آئی سی اجلاس بلانے کی حمایت پر اتفاق

2022 تک کے اعدادوشمار کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان 1.

25 ارب ڈالر کی تجارت ہوتی ہے۔ پاکستان ترکیہ کو 45 کروڑ ڈالر کی مصنوعات برآمد کرتا ہے جبکہ وہاں سے 80 کروڑ ڈالر کی مصنوعات درآمد کی جاتی ہیں، پاکستانی برآمدات میں زیادہ کپڑے کی مصنوعات شامل ہیں۔

حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تعلقات میں بہت بہتری آئی ہے اور ترک ثقافتی ڈرامے پاکستان میں بے حد پسند کیے جارہے ہیں اور کئی ترک اداکار پاکستانی گھروں میں بے حد مقبول ہیں۔ حالیہ برسوں میں دونوں ملکوں کے درمیان عوامی روابط میں بھی اضافہ ہوا ہے،دونوں مسلم ملک اسلام کے رشتے سے اور زیادہ قریب ہوجاتے ہیں۔

پاکستان بننے سے قبل تعلقات

مسلمانان برصغیر نے ترکیہ کو ہمیشہ عزت و تکریم کی نگاہ سے دیکھا ہے اور آزادی سے قبل بھی یہاں کے مسلمان ترک خلیفہ کو مسلمانوں کا مرکزی رہنما مانتے تھے، خلافت کا ادارہ ختم کیے جانے کے خلاف مسلمانان برصغیر نے تحریک چلائی۔

قیام پاکستان کے بعد ترکیہ پاکستان کو تسلیم کرنے والے اوّلین ملکوں میں سے ایک تھا اور 30 نومبر 2022 کو دونوں ملکوں نے اپنے سفارتی تعلقات کے 75 سال پورے ہونے کی سالگرہ منائی۔

یہ بھی پڑھیں: مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کرتے ہیں، رجب طیب اردوان

1950 کی دہائی میں دونوں ممالک بغداد پیکٹ جسے بعد میں سینٹو کا نام دیا گیا تھا، اُس کے رُکن تھے جس کا مقصد کمیونرم کے خلاف مغربی اتحاد کی مدد کرنا تھا۔ اس عرصے کے دوران دونوں مُلکوں کے درمیان فوجی اور تزویراتی تعاون میں کافی وسعت پیدا ہوئی اور اسی دوران ثقافتی تعاون کا ایک معاہدہ بھی دونوں ملکوں کے درمیان ہوا۔

جنگوں میں مدد

ترکیہ نے 1965 اور 1971 کی جنگوں میں پاکستان کی مدد کی اور مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی مسلسل حمایت کی۔ بدلے میں سائپرس کے مسئلے پر پاکستان نے ہمیشہ ترک مؤقف کی حمایت کی ہے، دونوں ملکوں نے او آئی سی جیسے فورمز پر ہمیشہ ایک دوسرے کی حمایت کی ہے۔

نائن الیون

نائن الیون کے بعد دہشتگردی کے خلاف جنگ کو لے کر پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات میں زیادہ وسعت اور گہرائی آئی اور 2007 میں ترکیہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کا سہولت کار تھا۔

پاکستان اور ترکیہ کے دفاعی تعلقات

ہائی لیول اسٹریٹجک کوآپریشن کونسل (ایچ ایل ایس سی سی)، اس ادارے کی بُنیاد 2009 میں رکھی گئی اور اِس کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان تزویراتی تعاون کو فروغ دینا ہے۔

ہائی لیول ملٹری ڈائیلاگ گروپ

یہ ادارہ 2003 میں بنایا گیا جس کا مقصد دونوں ُلکوں کے درمیان فوجی تعاون کو فروغ دینا تھا۔

پاک ترک دفاعی تجارت

ترکیہ پاکستان کو دفاعی سازوسامان فراہم کرنے کے حوالے سے ایک اہم ملک ہے، جس میں ایف 16 طیارے، فلیٹ ٹینکرز، آبدوزیں شامل ہیں، اس کے علاوہ پاکستان ترکیہ میں تیارکردہ ڈرونز بیراکتار ٹی بی 2 کا بھی خریدار ہے۔

مشترکہ پیداوار

 دونوں ممالک مشترکہ طور پر دفاعی ساز و سامان بھی بناتے ہیں، جیسا کہ جنگی بحری جہاز مِلجیم کوروٹس جو ترکی اور پاکستان دونوں ممالک میں تیار کیے جاتے ہیں۔

مشترکہ جنگی مشقیں

 دونوں ممالک مشترکہ جنگی مشقوں میں حصہ لیتے ہیں، جس میں اتاترک اور جناح سیریز مشقیں شامل ہیں جو انسداد دہشتگردی اور اسپیشل آپریشنز سے متعلق مشقیں ہوتی ہیں۔

انسداد دہشتگردی

دونوں ملکوں کے درمیان انسداد دہشتگردی پر تعاون کے حوالے سے معاہدات موجود ہیں جس میں خفیہ معلومات کا اشتراک، مشترکہ آپریشنز اور تربیت کے پروگرام شامل ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news اسٹریٹجک تعلقات برادر اسلامی ملک پاکستان ترکیہ دفاعی تعاون دوطرفہ امور فلسطین مسئلہ کشمیر

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسٹریٹجک تعلقات برادر اسلامی ملک پاکستان ترکیہ دفاعی تعاون دوطرفہ امور فلسطین مسئلہ کشمیر پاکستان اور ترکیہ دونوں ممالک مسئلہ کشمیر دونوں ملک کی حمایت حمایت کی شامل ہیں کے خلاف

پڑھیں:

ایرانی وزیر خارجہ کے دورہ چین کا پیغام

اسلام ٹائمز: دونوں ممالک 25 سالہ تعاون کے پروگرام پر عملدرآمد کو تیز کرنے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔ توانائی کے مرکز کے طور پر ایران کی پوزیشن اور چین کی اشیا پیدا کرنیوالے سب سے بڑے ملک کے طور پر کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ یہ تعاون دونوں ممالک کو فائدہ پہنچا سکتا ہے اور عالمی منڈیوں پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔ اس دورہ کی اہمیت اس لحاظ سے مزید بڑھ جاتی ہے، جب ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں اور ایران امریکہ پر ثابت کرنا چاہتا ہے کہ اسکے پاس صرف امریکہ کا آپشن نہیں بلکہ وہ روس اور چین سمیت دنیا کے بڑے ممالک کیساتھ اپنے سفارتی و اقتصادی تعلقات کو آگئے بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تحریر: احسان شاہ ابراہیم

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے چینی حکام کے ساتھ مشاورت اور دوطرفہ معاہدوں پر عمل درآمد کے لیے آج بیجنگ کا دورہ کیا ہے۔ اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک اور کثیرالجہتی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا ہے کہ دورہ چین کے موقع پر وزیر خارجہ چین کے اعلیٰ عہدے داروں سے ملاقات اور گفتگو کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور چین کے تعلقات تاریخی ہیں اور گذشتہ نصف صدی کے دوران بھی تہران اور بیجنگ کے تعلقات ہمیشہ پرفروغ رہے ہیں۔ ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ بہت سے بین الاقوامی معاملات کی جانب ایران اور چین کی نگاہ یکساں ہے اور قیادت کی سطح پر مذاکرات کا تسلسل ان قریبی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تہران اور بیجنگ باہمی اعتماد اور احترام کی بنیاد پر اور دونوں قوموں کے مفادات کے لیے پرعزم ہیں۔

یہ دورہ ایران چین تعلقات بالخصوص اقتصادی اور سیاسی شعبوں میں مضبوطی کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ جوہری مذاکرات اور کثیرالجہتی تعاون میں چین کے کردار کے پیش نظر، یہ دورہ علاقائی اور عالمی مساوات پر گہرے اثرات مرتب کرسکتا ہے۔ عراقچی کا دورہ چین دونوں ممالک کے اسٹریٹجک تعلقات اور تعاون کو وسعت دینے کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے، جب ایران اور چین، برکس اور شنگھائی تعاون تنظیم کے اہم رکن کے طور پر دو طرفہ تعاون کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہیں۔ عراقچی نے چینی ہم منصب کو ایرانی صدر کا پیغام پہنچایا ہے۔ یہ دورہ ان کے چینی ہم منصب کی سرکاری دعوت پر ہے اور اس میں اعلیٰ چینی حکام سے ملاقاتیں بھی شامل ہیں۔ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی جو اپنے چینی ہم منصب کی سرکاری دعوت پر بیجنگ کے دورہ پر ہیں، نے آج صبح چین کی کمیونسٹ پارٹی کی پولیٹیکل بیورو کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے رکن اور چین کے نائب وزیراعظم ڈینگ زوژیانگ سے گریٹ پیپلز ہال میں ملاقات کی۔

ملاقات میں فریقین نے دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کی طویل تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے چین - ایران جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے فریم ورک کے اندر تعاون کی تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لیا اور 25 سالہ جامع تعاون کے منصوبے پر عملدرآمد کو تیز کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔ ایران کے اسٹریٹجک اور قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر چین کے کردار کو سراہتے ہوئے، ایرانی وزیر خارجہ نے شنگھائی تعاون تنظیم اور برکس گروپ کے فریم ورک کے اندر دو طرفہ اور کثیرالجہتی تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ ایران کی ایشیائی پالیسی اور علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے، عراقچی نے ایران اور چین سمیت ہم خیال ممالک کے درمیان قریبی تعاون کو دھونس اور یکطرفہ فائدہ کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری قرار دیا اور چین کے ساتھ جامع تعلقات کو وسعت دینے کے لیے ایران کے پختہ عزم کا اظہار کیا۔

ڈینگ ژو ژیانگ نے ایران اور چین کے درمیان تمام شعبوں میں تعلقات کی توسیع پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو باہمی اعتماد اور احترام کی پیداوار اور دونوں قوموں کے مشترکہ مفادات پر مبنی قرار دیا اور چینی قیادت کی ایران کے ساتھ باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعلقات اور تعاون کو مزید فروغ دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔ دونوں ممالک 25 سالہ تعاون کے پروگرام پر عمل درآمد کو تیز کرنے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔ توانائی کے مرکز کے طور پر ایران کی پوزیشن اور چین کی اشیا پیدا کرنے والے سب سے بڑے ملک کے طور پر کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ یہ تعاون دونوں ممالک کو فائدہ پہنچا سکتا ہے اور عالمی منڈیوں پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔ اس دورہ کی اہمیت اس لحاظ سے مزید بڑھ جاتی ہے، جب ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں اور ایران امریکہ پر ثابت کرنا چاہتا ہے کہ اس کے پاس صرف امریکہ کا آپشن نہیں بلکہ وہ روس اور چین سمیت دنیا کے بڑے ممالک کے ساتھ اپنے سفارتی و اقتصادی تعلقات کو آگئے بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان بھارت کے کسی بھی حملے کا منہ توڑ جواب دے گا: خواجہ آصف
  • پاک افغان تعلقات کا نیا دور
  • پاکستان اور بھارت کے درمیان کون کون سے معاہدے موجود ہیں؟
  • پہلگام واقعہ: واہگہ بارڈر پر روایتی پریڈ محدود کردی گئی
  • پاک ترکیہ اقتصادی و اسٹرٹیجک تعاون
  • ایرانی وزیر خارجہ کے دورہ چین کا پیغام
  • پاکستان اور ترکیہ کی غزہ بربریت کی مذمت، اردوان کی دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پاکستان کی حمایت
  • کیا پاک افغان تعلقات میں تجارت کے ذریعے بہتری آئے گی؟
  • پاکستان اور ترکیہ کی غزہ بربریت کی مذمت، اردوان کی دہشتگردی کے خاتمے کیلیے پاکستان کی حمایت
  • پاکستانی وزیراعظم آج ترکی کے دورے پر