ممبئی(شوبز ڈیسک)بالی ووڈ کے مسٹر پرفیکشنسٹ اداکار عامر خان کا کہنا ہے کہ ایک بار بالی ووڈ کنگ شاہ رخ خان نے ان کے لیے لیپ ٹاپ خریدا جسے انہوں نے برسوں تک نہیں کھولا۔

عامر خان نے ایک تقریب کے دوران بات کرتے ہوئے بتایا کہ شاہ رخ خان ہمیشہ سے ٹیکنالوجی کے حوالے سے ان سے آگے تھے اور ایک بار 1996 میں برطانیہ کے ایک دورے کے دوران شاہ رخ خان نے انہیں ایک لیپ ٹاپ خریدنے کی تجویز دی لیکن انہوں نے اسے خریدنا ضروری نہیں سمجھا۔

عامر خان نے واقعہ کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ شاہ رخ خان نے انہیں اس طرح قائل کیا کہ یہ کام اور ڈیٹا کے حوالے سے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ عامر نے آخرکار رضامندی ظاہر کی اور شاہ رخ خان سے کہا، ’تم اپنے لیے ایک خرید لو، اور میرے لیے بھی ایک لے آؤ‘۔

مسٹر پرفیکشنسٹ عامر خان نے بتایا کہ لیپ ٹاپ خریدنے کے باوجود انہوں نے کبھی اسے استعمال نہیں کیا اور کئی سال بعد جب ان کے مینجر نے لیپ ٹاپ پڑے ہوئے دیکھا تو کہا کہ ’سر میں ہمیشہ آپ کا لیپ ٹاپ ایسے پڑا ہوا دیکھتا ہوں کیا میں اسے استعمال کر سکتا ہوں‘۔

عامر خان نے جواب دیا ’جی ہاں ضرور‘۔ جس پر مینجر نے لیپ ٹاپ اٹھا کر اسے آن کرنے کی کوشش کی تو وہ کام نہیں کر رہا تھا۔ بالی ووڈ اداکار نے ہنستے ہوئے کہا کہ ’ٹیکنالوجی اور میرا رشتہ بہت دور ہے‘۔

واضح رہے کہ عامر خان کی فلم ’ لال سنگھ چڈھا‘ باکس آفس پر زیادہ کامیاب نہیں ہوئی، اب عامر خان فلم ’تارے زمین پر‘ کے سیکوئیل ’ستارے زمین پر‘ پر کام کر رہے ہیں۔ اس فلم میں بھی ذہنی بیماری ’ڈاؤن سنڈروم‘ کو اجاگر کیا جائے گا۔

فلموں کی تھیم ایک سی ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے عامرخان نے دعویٰ کیا ہے کہ نئی فلم ناظرین کو محظوظ کرنے کے لحاظ سے 10 گنا زیادہ بہتر ہوگی۔ یہ اداسی اور کامیڈی سے بھرپور بھی ہوگی۔ عامر خان کا کہنا تھا کہ اس فلم میں ان کا کردار ایک بچے کے بجائے تمام بچوں کی مدد کرے گا۔

پہلے فلم کو دسمبر 2024 میں ریلیز کرنے کا ارادہ تھا، لیکن عامر خان نے اسے ملتوی کر کے گرمیوں 2025 میں ریلیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ فلم کو مکمل طور پر بہتر بنایا جا سکے۔

جبکہ شاہ رخ خان کی حالیہ کامیاب فلموں میں ’جوان‘، ’پٹھان‘، اور ’ڈنکی‘ شامل ہیں جنہوں نے باکس آفس پر خوب کمائی کی ہے۔
مزیدپڑھیں:چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کے چاروں بیٹوں کے وارنٹ گرفتاری جاری

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: شاہ رخ خان لیپ ٹاپ

پڑھیں:

ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟

ہند رجب فاؤنڈیشن نے بھارتی پولیس، وزارت داخلہ اور بیورو آف امیگریشن سے ہماچل پردیش میں تعطیلات گزارنے والے اسرائیلی فوج کے ریزروسٹ اہلکار ایٹن گل بوا کی فوری گرفتاری کا

مطالبہ کیا ہے۔

فاؤنڈیشن کے مطابق مذکورہ اسرائیلی اہلکار پر غزہ میں ’انتقامی کارروائیوں کے طور پر پورے رہائشی بلاکس کی منظم تباہی‘ کا الزام ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت: فلسطینی بچی پر مبنی آسکر نامزد فلم  ’دی وائس آف ہند رجب‘ پر پابندی عائد

فاؤنڈیشن کے مطابق گل بوا، جو اسرائیلی فوج کی 271ویں کامبیٹ انجینئرنگ بٹالین میں ریزروسٹ کے طور پر خدمات انجام دے چکا ہے، نے شہری عمارتوں کی تباہی کو خود دستاویزی شکل دی۔

اس نے ایسی ویڈیوز بھی بنائیں جن میں وہ خان یونس اور رفح میں شہری گھروں کی مسماری کے احکامات دیتے، ان پر عمل درآمد کرتے اور اس عمل کا جشن مناتے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔

The @hindrajabfoundation filed an urgent complaint in ???????? #India, demanding the immediate arrest of Eitan Gilboa, Israeli national and reservist in the 271st Combat Engineering Battalion. Gilboa is currently vacationing in Old Manali and Gondla Village, Himachal Pradesh.
Full… pic.twitter.com/6nSTt3uk25

— The Hind Rajab Foundation (@HindRFoundation) June 2, 2026

فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ گل بوا کے خلاف متعدد ایسے واقعات کے شواہد موجود ہیں جن میں اس نے شہری بنیادی ڈھانچے کی تباہی میں حصہ لیا۔

’مارچ 30 موومنٹ‘ کے ذیلی ادارے ہند رجب فاؤنڈیشن نے کہا کہ گل بوا کے مبینہ اقدامات چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہیں۔

فاؤنڈیشن کے مطابق بھارت، جو اس کنونشن کا فریق ہے، قانونی طور پر اس بات کا پابند ہے کہ سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب افراد کی تلاش کرے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کرے،

خواہ ان کی شہریت کچھ بھی ہو۔

مزید پڑھیں: اسرائیلی جنرل کو اعزاز دیے جانے کے بعد معروف ہدایتکارہ کا ایوارڈ لینے سے انکار

فاؤنڈیشن نے مزید کہا کہ بھارتی آئین کے آرٹیکل 51(سی) کے تحت بھی ریاست بین الاقوامی قانون کے احترام کو فروغ دینے کی پابند ہے، لہٰذا نئی دہلی پر اس معاملے میں کارروائی کی ذمہ داری

عائد ہوتی ہے۔

فاؤنڈیشن کے مطابق اس کے جنرل ڈائریکٹر دیاب ابو جحجہ نے کہا کہ گل بوا کوئی سیاح نہیں بلکہ ایک جنگی مجرم ہے جو اپنے جرائم کے نتائج سے بچتے ہوئے اس وقت بھارت کی مہمان

نوازی سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔

The Hind Rajab Foundation (HRF), a Belgium-based organisation pursuing legal action against Israeli military personnel across multiple countries, has filed a complaint with Indian authorities seeking the arrest of an Israeli reservist currently travelling in Himachal Pradesh over…

— The Siasat Daily (@TheSiasatDaily) June 2, 2026

’اس نے خود عوامی طور پر ایسی ویڈیوز اور مواد شائع کیا ہے جن میں وہ غزہ کے پورے محلوں کو راکھ اور ملبے میں تبدیل کرتا دکھائی دیتا ہے، اور ان کارروائیوں کو انتقامی جذبے کے تحت

ہلاک ہونے والے فوجیوں کے نام منسوب کرتا ہے۔‘

مزید پڑھیں: بیلجیئم نے اسرائیلی فوجیوں کے خلاف جنگی جرائم کا مقدمہ آئی سی سی کو بھجوا دیا

دیاب ابو جحجہ نے بھارتی حکام سے فوری کارروائی اور گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو اپنی سرزمین ان افراد کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں بننے دینی چاہیے جو شہری جانوں کی

تباہی پر فخر کرتے ہیں۔

فاؤنڈیشن نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے میں جوابدہی کے حصول کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی اور اس کا مؤقف ہے کہ مشتبہ شخص اس وقت بھارت میں موجود ہے، اس لیے کارروائی

کی ذمہ داری بھی بھارت پر عائد ہوتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی فوج اہلکار بھارت بیورو آف امیگریشن پولیس غزہ فاؤنڈیشن نئی دہلی ہماچل پردیش ہند رجب وزارت داخلہ

متعلقہ مضامین

  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • اداکارہ میرب علی کو اچانک سرجری کیوں کروانا پڑی؟ اصل وجہ سامنے آگئی
  • ایران کا قشم جزیرہ امریکی فوج کے نشانے پر کیوں ہے؟
  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟