دنیا میں سالانہ 12 لاکھ اور روزانہ 3 ہزار 300 افراد ٹریفک حادثات میں مررہے ہیں، عالمی بینک
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2025 GMT
اسلام آباد:
عالمی بینک کا کہنا ہے کہ دنیا میں سالانہ 12 لاکھ سے زائد اور روزانہ 3 ہزار 300 افراد ٹریفک حادثات میں لقمہ اجل بن رہے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار عالمی بینک کی روڈ سیفٹی کے حوالے سے جاری کردہ حالیہ رپورٹ میں کیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام روڈ سیفٹی کے دوسرے عشرے کا پہلا نصف مکمل ہو رہا ہے اور ایسے میں سڑکوں پر ہونے والے حادثات میں اموات اور سنگین چوٹوں کو 2030ء تک نصف کرنے کا ہدف حاصل کرنے کی ضرورت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے، یہ ہدف اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف میں بھی شامل ہے، ٹریفک کے حادثات میں ہلاک اورزخمی ہونے والوں میں بچوں اور نوجوانوں کی شرح زیادہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق روڈ سیفٹی کے پہلے عشرے(2011تا2020) کے دوران بھی یہی ہدف مقرر کیا گیا تھا مگر اس عرصے میں قابل ذکر پیش رفت کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جاسکے تاہم ان تجربات سے حاصل شدہ اسباق نے مستقبل کی حکمت عملیوں کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دوسرے عشرے میں روڈ سیفٹی کی حکمت عملیوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے ڈیٹا، تحقیق اور بہترین عالمی مثالوں سے مدد لی جا رہی ہے، اس کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی جیسے انٹیلیجنٹ اسپیڈ اسسٹنس کے متعارف ہونے اور روڈ سیفٹی کے لیے مالی معاونت میں اضافے سے اس مہم کو تقویت دی جا رہی ہے تاہم اب تک ہونے والی پیش رفت غیر متوازن اور سست روی کا شکار ہے اور مزید کام کی ضرورت ہے۔
رپورٹ کے مطابق عالمی بینک نے کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں روڈ سیفٹی کو بہتر بنانے کے لیے نمایاں پیش رفت کی ہے، عالمی سڑک حادثات میں ہونے والی 92 فیصد اموات ان ممالک میں ہورہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 2013ء سے 2023ء کے درمیان عالمی بینک نے براہ راست روڈ سیفٹی کے منصوبوں میں مجموعی طور پر 3.
رپورٹ میں روڈ سیفٹی کے لیے نجی سرمایہ کاری اور زیادہ متاثرہ ممالک کے لیے جدید آلات اور طریقہ ہائے کاروضع کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: حادثات میں عالمی بینک رپورٹ میں کے لیے
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔