الیکشن 2024 کے فوری بعد بانی پی ٹی آئی کی گڈ بکس میں نہیں رہا، شیر افضل مروت
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2025 GMT
پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی ( ایم این اے ) شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ میں الیکشن 2024 کے فوری بعد بانی پی ٹی آئی کی گڈ بکس میں نہیں رہا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ سابق وزیر اعظم نوازشریف کو بھی آج تک سمجھ نہیں آئی کہ اُنہیں کیوں نکالا گیا، انہیں جنرل ( ر ) باجوہ نے ثاقب نثار سے مل کر غلط نکلوایا تھا اور مجھے بھی کبھی نہیں سمجھ آئے گی کہ مجھے کیوں نکالا گیا جبکہ نوازشریف کو نکلوانے میں پی ٹی آئی کا کردار نہیں ہو سکتا تھا، انہیں غلط نکالا گیا تھا۔
رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ مجھے تیسری مرتبہ پارٹی سے نکالا گیا ہے اور اگر میں نکلوانے والوں کا نام لوں تو بانی پی ٹی آئی کو دُکھ ہوگا، میں نے صوابی جلسے میں کوئی نعرے نہیں لگائے، پنڈال میرے نعرے لگا رہا تھا تو کارکنان پیغام دینا چاہ رہے تھے، ایک گروپ کے مہرے نے میرا یہ حال کیا ہوا ہے، میڈیا پر آکر بنائیں کہ میں نے کیا گناہ کیا؟۔
شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ پارلیمانی پارٹی میں کہا مجھے کیوں نکالا تو سب نے کہا ، غلط نکالا گیا۔
انہوں نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی کے ذہن میں ڈالا گیا کہ میں ان کی جگہ لینا چاہتا ہوں، لوگوں میں مقبولیت ملی ہے تو میرا کیا قصور ہے؟ الیکشن کے بعد پارٹی توڑنے کیلئے اسٹیبلمشنٹ نے کوئی کسر نہیں چھوڑی، اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہونے کا الزام مجھ سمیت علی امین، شاہ محمود قریشی اور پرویزالہٰی پر بھی لگا۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی میں غدارغدار کا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی شیر افضل مروت نکالا گیا
پڑھیں:
حکومت کا فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ملک میں گندم کی طلب اور دستیاب ذخائر کے درمیان فرق کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزارتِ نیشنل فوڈ سکیورٹی کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد صوبوں کی ضروریات پوری کرنا، گندم کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانا اور مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھنا ہے۔
وزارتِ نیشنل فوڈ سکیورٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) کے موجودہ گندم ذخائر ملک بھر کے صوبوں کی مجموعی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہیں، جس کے باعث ہنگامی بنیادوں پر گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاسکو کے پاس موجود گندم کے ذخائر کو صوبوں کی ضرورت اور دستیابی کے مطابق تقسیم کیا جائے گا تاکہ کسی بھی علاقے میں قلت پیدا نہ ہو اور مارکیٹ میں سپلائی کا نظام متاثر نہ ہو۔
وزارت کے مطابق وفاقی حکومت نے صوبائی حکومتوں کے ساتھ گندم کی دستیابی، قیمتوں اور سپلائی کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی مشاورت کی ہے، جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ فوری درآمد کے ذریعے ملکی ضروریات کو پورا کیا جائے۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ حکومت عوام کو سستی، معیاری اور وافر مقدار میں گندم کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے اور اس سلسلے میں تمام ضروری انتظامی اور عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت گندم درآمد کرنے سے نہ صرف آٹے کی قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے میں مدد ملے گی بلکہ ممکنہ قلت اور ذخیرہ اندوزی جیسے مسائل پر قابو پانے میں بھی معاونت حاصل ہوگی۔
حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانے، سپلائی چین کو مستحکم رکھنے اور عوام کو مناسب قیمت پر بنیادی غذائی اجناس کی فراہمی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔