کراچی:

نیشنل اسٹیڈیم میں چیمپئنزٹرافی کی افتتاحی تقریب کے دوران پاک فضائیہ کا شیردل اسکوارڈن5 سال بعد کراچی کی فضاؤں میں پیشہ ورانہ تربیت کا شاندارمظاہرہ پیش کریگا۔

قراقرم 8 ساختہ طیاروں پر مشتمل ایئروبیٹیکس اسکوارڈن شیردل پیچیدہ ترین منوورز(پیشہ ورانہ تربیت کے شاندار مظاہروں) کے دوران طیارے انتہائی خطرناک حد تک ایک دوسرے کے قریب سے گذریں گے۔

پاکستان ایئرفورس کے اس جداگانہ اسکوارڈن نے پہلی بار 19 ستمبر1974 کو شیردل کے طور پر اڑان بھری۔

یہ سال 2020 کی بات ہے جب بھارت کوناکوں چنے چبوانے کے بعد فضائیہ کی جانب سے آپریشن سوفیٹ ریٹارٹ کی پہلی سالگرہ پر سرپرائز ڈے کے حوالے سے سی ویوکراچی پرائیرشوکا انعقاد کیا گیا جس میں جے ایف سیونٹین تھنڈر، ایف سولہ طیاروں کی گھن گرج کے دوران ائیروبیٹیکس ٹیم شیردل اسکوارڈن کی جانب سے خصوصی مظاہرے سے شائقین دنگ رہ گئے۔

نیشنل اسٹیڈیم میں چیمپئنزٹرافی کی افتتاحی تقریب میں شیردل اسکوارڈن کے علاوہ پاک فضائیہ کے جنگی بیڑے میں شامل پاکستانی ساختہ جے ایف سیونٹین تھنڈرکے علاوہ ایف سولہ جنگی طیارے بھی پیشہ ورانہ تربیت کا مظاہرہ پیش کرینگے۔

قراقرم 8 بیسک کم ایڈوانس پاکستانی ساختہ جیٹ ٹرینٹرائیرکرافٹس ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: شیردل اسکوارڈن

پڑھیں:

چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت

دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔

تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔

مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139  نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک