عمران خان اگر اپنی رہائی چاہتے ہیں تو غیبت کرنے والوں کو شٹ اپ کال دیں،شیرافضل مروت
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2025 GMT
اسلام آباد (آ ئی این پی) پاکستان تحریک انصاف کے ممبر قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ عمران خان اگر اپنی رہائی چاہتے ہیں تو غیبت کرنے والوں کو شٹ اپ کال دیں۔ بانی پی ٹی آئی کے ارد گرد ایک منافق ٹولہ ہے جو کہ ہر وقت غیبت کرتا رہتا ہے۔تحریک انصاف کو تقسیم کرنے کے لیے سازش ہو رہی ہے۔ وہ پارلیمنٹ ہاس کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ایک بات طے ہے کہ عمران خان کی رہائی کسی بھی صورت میں ممکن نظر نہیں آرہی ہے کیونکہ جماعت کے اندر منافق لوگ بیٹھے ہوئے ہیں جو اسٹیبلشمنٹ سے ملے ہوئے ہیں۔ڈبل گیم کھیلی جا رہی ہے۔جب تک غیبت کا سلسلہ اور عمران خان کے پاس بیٹھ کر چاپلوسوں کا خاتمہ نہیں ہوتا عمران خان جیل سے باہر نہیں ا سکے گا۔انہوں نے کہا کہ بیرسٹر گوہر علی خان کا میں احترام کرتا ہوں وہ انتہائی زیرک سیاستدان ہے اور عمران خان کے ساتھ مخلص ہے۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے میرے خلاف سازش ہو رہی ہے اور عمران خان کے ساتھ ہمیشہ ایک دھڑا رہتا ہے جو ملاقات کے دوران صرف غیبت کرتا ہے اور مخلص کارکنوں کو جماعت سے نکالنے کے لیے کوششیں کرتا ہے۔
ٹورنٹو میں ائیرپورٹ پر مسافر طیارہ لینڈنگ کے دوران الٹ گیا،بچے سمیت 18مسافرزخمی
انہوں نے کہا کہ چند لوگ ہیں جو ٹکے کا کام نہیں کرتے ہیں صرف گاڑیوں میں گھومتے ہیں اور عیاشی کرتے ہیں۔میں انہیں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں بے نقاب کرتا رہوں گا۔انہوں نے کہا کہ مجھے کیوں نکالا گیا ہے میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کے ساتھ جلد ملاقات ہوگی تو اس میں تمام حقائق ان کے سامنے رکھوں گا۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے اندر عہدوں کے لیے جنگ شروع ہو گئی ہے۔اب میں اپنی تمام کشتیاں جلا کر ایا ہوں اور کسی کو بھی نہیں چھوڑوں گا جو لوگ میرے خلاف بات کریں گے انہیں میں بے نقاب کروں گا۔جماعت کے اندر چند لوگ ہیں جو گماشتوں کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ا
مسافر وین بے قابو ہو کر سڑک کنارے کھڑی ٹریکٹر ٹرالی سے جا ٹکرائی‘2 افراد جاں بحق
نہوں نے کہا کہ اگر میں جماعت کے اندر مقبول ہوں تو اس میں میرا کیا قصور ہے۔لوگوں کی اکثریت مجھے پسند کرتی ہے۔میں کسی بھی طرح یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ عمران خان کے ساتھ کھڑا رہوں گا۔میرے پیچھے سوشل میڈیا کی ایک پروپیگنڈا مشین لگا دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ بیرسٹر گوہر علی خان کا یہ کہنا کہ میں عمران خان کی رہائی تک خاموشی اختیار کر لوں ممکن نہیں ہے۔میرے خلاف جماعت کے اندر درجنوں افراد سازش کر رہے ہیں۔یہ جو شہرت ملی ہے عمران خان کی وجہ سے ہے۔
ان کا کہناتھا کہ ایک سال قبل جب مجھے اپوزیشن لیڈر بنایا جا رہا تھا تو تمام لوگ میرے ساتھ تھیاور یہ کہا جا رہا تھا کہ عمران خان کی رہائی کے لیے میں کردار ادا کروں گا۔میں آج بھی اسی بات پر قائم ہو ں کہ عمران خان کی رہائی کے لیے بھرپور کردار ادا کروں گا۔جس دن مجھے عمران خان نے حکم دیا پاکستان کے لاکھوں افراد میرے ساتھ ہوں گے اور ہم اڈیالہ جیل کی طرف جائیں گے۔عمران خان کو لیے بغیر گھر واپس نہیں آئوں گا۔عمران خان کے ارد گرد ایک منافق ٹولہ ہے جو کہ ہر وقت غیبت کرتا رہتا ہے۔تحریک انصاف کو تقسیم کرنے کے لیے سازش ہو رہی ہے۔
بچے کی پیدائش سے پہلے ہی ماں کے رحم میں کینسر کے خطرے کا پتا لگایا جاسکتا ہے، نئی تحقیق میں حیران کن انکشاف
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: عمران خان کی رہائی عمران خان کے ساتھ انہوں نے کہا کہ جماعت کے اندر کہ عمران خان تحریک انصاف رہی ہے کے لیے
پڑھیں:
سیاستدان امیر دوستوں کو مراعات دینا، غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں: بلاول
اسلام آباد ( نمائندہ خصوصی) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے سکردو کے مین بازار میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ انتخابی مہم میں آپ کے پاس آیا تھا اور جی بی کی ہر تحصیل میں گیا۔ ہمارا صرف سیاسی رشتہ نہیں بلکہ نسلوں کا ساتھ ہے۔ میں یہ مہم بھی گزشتہ انتخابی مہم کی طرح کرنا چاہتا تھا۔ گزشتہ انتخابات میں خوشی کا ماحول تھا لیکن اب ہم سب کے لئے غم کا ماحول ہے۔ ایران میں جو شہادتیں ہوئی ہیں، بچیوں کو شہید کیا گیا ہے یہ غم کا ماحول ہے۔ جس طرح رمضان میں آیت اللہ علی خامنہ ای کو، ان کی نواسی کے شہید کیا گیا وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی امن پسند اور جنگ کے خلاف ہے۔ یہ کہانی ایران تک نہیں فلسطین اور لبنا ن میں بھی بے گنا ہ لوگوں کو شہید کیا گیا۔ فیلڈ مارشل امن کی جو کوشش کر رہے ہیں، ہم سب دعاگو ہیں کہ یہ کوشش کامیاب ہو۔ پوری مسلم دنیا اور دنیا بھر کے نوجوان اس جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ اس جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بے تحاشا بڑھ گئی ہے۔ اس لئے ہم اس جنگ کو ختم ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی پی پی کی سیاست باقی جماعتوں سے مختلف ہے۔ ہم پسماندہ طبقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کو حقوق دیتے ہیں اور غریب کا سوچتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کی ترقی پسماندہ طبقے کی ترقی سے ہے۔ باقی جماعتیں امیروں کو مزید امیر بنانے کی پالیسی اختیار کرتے ہیں اور اسے نام ترقی کا دیا جاتا ہے۔ صدر زرداری نے اپنے پہلے دور حکومت میں بی آئی ایس پی بنا کر روٹی، کپڑا اور مکان کو عملی شکل دی۔ بطور وزیرخارجہ مجھ سے دوسرے ممالک پوچھتے تھے کہ ہم بی آئی ایس پی کے ذریعے اپنے غریبوں کی بھی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ بدقسمتی اس ملک کی یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ایسی ہیں کہ وہ سوچتی ہیں کہ اپنے امیر دوستوں کے لئے مراعات کیسے دیں اور وہ بی آئی ایس پی کی غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بی آئی ایس پی کی مدد پورے ملک کے غریب عوام کو ملتی ہے۔ ماؤں کی دعاؤں کی وجہ سے ان کی بی آئی ایس پی کو ختم کرنے کی سازش ناکام ہوگی۔ وزیراعظم آنے والے بجٹ میں بی آئی ایس پی میں اضافے کا اعلان کریں گے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی پی پی نے ملک کی دفاعی صلاحیت مضبوط کی ہے۔ اس وقت پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے اور کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتا۔ یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے تحفہ دیا ہے۔ وہ گڑھی خدا بخش سے پاکستان کا دفاع کر رہے ہیں۔ شہید بی بی نے میزائل ٹیکنالوجی دی کہ وہ اس بم کو لے کر دشمن تک پہنچ سکتے ہیں۔ آج پاکستان کا دفاع اسی وجہ سے ناقابل تسخیر ہے۔ اس کے بعد مشرف کا دور گزرا کہ جب دوسرے ممالک کو Bases بنانے کی اجازت دی گئی۔ صدر زرداری نے سلالہ واقعے کے بعد سارے فوجی اڈوں کو بند کیا۔ ہمیں تین اصولوں حق حاکمیت ، حق ملکیت اور حق روزگار پر عمل کرنا ہوگا۔ یہ تب ہوگا جب اٹھارہویں ترمیم کے مطابق دیگر صوبوں کی طرح حقوق جی بی کو بھی ملیں۔ آپ کے پہاڑوں کے نیچے جو وسائل ہیں ان پر حق جی بی کے عوام کا ہے۔ وسائل پر پہلا حق جی بی کے عوام کا ہے اور اگر یہ حق ملکیت مل جائے تو پاکستان کی ترقی ہوگی جس طرح تھر کے کوئلے سے پورا پاکستان مستفید ہو رہا ہے۔ تھر کے منصوبے سے تھر کے عوام کو مفت بجلی دیتے ہیں۔ ہم نے تھر کے عوام کو تھر کول منصوبے میں ان کا شیئر دینا چاہا لیکن ان لوگوں نے پیسے لے لئے لیکن آپ کو اپنے وسائل میں شیئر لینا چاہیے۔ سی پیک کا سب سے بڑا منصوبہ تھرکول کا ہے۔ جب آپ کو حق ملکیت ملے گا تو آپ وسائل کے حصہ دار ہوں گے۔ ہماری سیاست عوام دوست اور غریب دوست ہے جبکہ دیگر لوگوں کی سیاست غریب دشمن اور امیردوست ہوتی ہے۔ اس لئے تیر پر مہر لگا کر غریب دوست حکومت بنائیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا میں جانتا ہوں کہ آپ کے ہاں بارشوں اور سیلاب سے بہت نقصان ہوتا ہے۔ سندھ میں بھی 2022 میں سیلاب آیا اور دو تہائی سندھ پانی کے نیچے چلا گیا۔ اس وقت سارے غریب لوگ مطالبہ کر رہے تھے کہ انہیں گھر بنا کر دئیے جائیں۔ یہ پاکستان کی پہلی حکومت جس نے غریب لوگوں کو گھر بنا کر دئیے۔ میں کسی صوبے سے نہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرتا ہوں اور 20 لاکھ گھر بنانے کا منصوبہ دنیا میں سب سے بڑا منصوبہ ہے۔ 7 جون کو تیر پر مہر لگائی تو اسی طرح جی بی کی خواتین کو بھی گھر بنا کر دیں گے۔ سندھ کا این آئی سی وی ڈی، این آئی سی ایچ، ایس آئی یو ٹی اور ڈاؤ میڈیکل کالج سے لے کر گمبٹ تک دل، گردے، کینسر اور جگر کا علاج پورے پاکستان کے عوام کو مفت مہیا کرتے ہیں۔ دیگر صوبے ہسپتالوں کی نجکاری کرتے ہیں تاکہ ان کے امیر دوستوں کو فائدہ ہو۔ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو علاج سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 7جون کو انشاء اللہ جی بی کے عوام باہر نکلیں گے اور تیر پر مہر لگا کر پیپلزپارٹی کی حکومت بنائیں گے تاکہ حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار، مفت علاج کے ادارے اور گھر بنانے کا منصوبہ شروع ہو سکے۔ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے جی بی کے عوام کی خدمت کریں گے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ آصفہ بی بی کو لے کر سکردو آئے ہیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ جس طرح بلتستان کے عوام نے انہیں کبھی مایوس نہیں کیا اسی طرح بی بی آصفہ کو بھی مایوس نہیں کریں گے۔ خطاب کے آخر میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوام کے ساتھ مل کر پارٹی کے لئے نعرے لگوائے۔