رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کیلئے رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس کب اور کہاں ہوگا؟وزارت مذہبی امور کا نوٹیفکیشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی حکومت نے ملک بھر میں ایک ساتھ رمضان المبارک کے انعقاد کیلئے کوشاں ہے ، اس حوالے سے رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس پشاور میں طلب کر لیا ہے۔
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق وزارت مذہبی امور کے نوٹیفکیشن کے مطابق رمضان المبارک 1446 ہجری کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس 28 فروری کو پشاور میں ہو گا۔نوٹیفکیشن کے مطابق اجلاس کی صدارت مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد کریں گے۔
وزارت مذہبی امور کا کہنا ہے کہ زونل رویت ہلال کمیٹیاں اپنے متعلقہ مقامات پر اجلاس منعقد کریں گی اور موصول ہونے والی شہادتوں کی بنیاد پر چاند نظر آنے یا نہ آنے کا حتمی اعلان مرکزی کمیٹی کرے گی۔
چیمپئنز ٹرافی: فخر زمان کی جگہ قومی ٹیم میں کس کھلاڑی کی شمولیت کا امکان ہے؟
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: رویت ہلال کمیٹی
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔