واٹس ایپ پروفائل میں دوسرے سوشل میڈیا اکاؤنٹس شامل ہونگے ؟اہم خبر آ گئی
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2025 GMT
انسٹنٹ میسیجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ پر صارف کے اکاؤنٹ پر دوسرے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو شامل کرنے کے فیچر کی آزمائش شروع کردی گئی۔
اس وقت واٹس ایپ بزنس میں صارفین کو ویب سائٹ یا دوسرے سوشل میڈیا اکاؤنٹس شامل کرنے کا آپشن دیا جاتا ہے، تاہم عام صارفین کو یہ سہولت میسر نہیں۔
لیکن اب واٹس ایپ میسینجر کے عام صارفین کو بھی مذکورہ فیچر تک رسائی دینے پر کام شروع کردیا گیا اور اس کی آزمائش بھی شروع کردی گئی۔
واٹس ایپ کی اپڈیٹس پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ کے مطابق ایپلی کیشن پر دوسرے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے لنکس شامل کرنے کے فیچر کی آزمائش شروع کردی گئی۔
فیچر تک محدود صارفین کو رسائی دی گئی ہے، تاہم جلد ہی اس تک دیگر صارفین کو بھی رسائی دیے جانے کا امکان ہے۔
فیچر کے تحت واٹس ایپ کا ہر صارف اپنے پروفائیل میں دوسرے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے لنکس بھی شامل کر سکے گا۔
جس طرح کوئی بھی شخص فیس بک اکاؤنٹ پر انسٹاگرام، ٹوئٹر اور دیگر اکاؤںٹس کو شامل کرتا ہے، اسی طرح واٹس ایپ پر بھی دوسرے اکاؤنٹس کے لنکس شامل کیے جا سکیں گے۔
ابھی آزمائشی پروگرام میں صرف انسٹاگرام اکاؤنٹ کا لنک شامل کرنے تک رسائی دی گئی ہے، تاہم فیچر کو پیش کرتے وقت دیگر سوشل اکاؤنٹس کو بھی شامل کرنے کا آپشن دیے جانے کا امکان ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے خلاف سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کے معاملے پر اے این پی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے نیشنل سائبرکرائم انوسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) میں درخواست جمع کرادی۔
ایک شخص کےخلاف آئی جی اور سیکرٹری داخلہ کو بھی درخواست دی گئی ہے۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق میاں افتخار کا کہنا ہے کہ اے این پی کے خلاف سوشل میڈیا پر مذہبی بنیادوں پر نفرت انگیز اور اشتعال انگیز مہم قابل مذمت ہے، پارٹی کے خلاف نفرت پھیلا کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، اے این پی آئین کی بالادستی، جمہوریت، عدم تشدد اور انتہا پسندی کے خلاف جدوجہد کی علمبردار ہے۔
امریکی فورسز نے متعدد ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرونز کو تباہ کر دیا: سینٹکام
میاں افتخار نے مطالبہ کیا ہےکہ این سی سی آئی اے، آئی جی اور سیکرٹری داخلہ فوری اور شفاف تحقیقات کرائیں، نفرت انگیز مواد پھیلانے اور جھوٹے بیانیے تشکیل دینے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
مزید :