Nawaiwaqt:
2026-07-24@14:02:09 GMT

لاہور ہائیکورٹ بار کے سالانہ انتخابات میں پولنگ کا عمل شروع

اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2025 GMT

لاہور ہائیکورٹ بار کے سالانہ انتخابات میں پولنگ کا عمل شروع

 لاہور ہائیکورٹ بار کے سالانہ انتخابات میں پولنگ کا عمل شروع ہو گیا۔پولنگ کا عمل شام پانچ بجے تک جاری رہے گا ،ہائیکورٹ بار کے سالانہ انتخابات میں 30ہزار سات سو 63 ووٹرز بائیو میٹرک سسٹم کے تحت ووٹ کاسٹ کررہے ہیں۔خیال رہے کہ صدر کے عہدہ کے لیے عاصمہ جہانگیر گروپ کے ثاقب اکرم گوندل اور حامد خان گروپ کے آصف نسوانہ میں مقابلہ ہورہا ہے، سیکرٹری کی نشست پر  2 امیدواروں فرخ الیاس چیمہ اور قاسم اعجاز سمرا میں جوڑ پڑے گا۔نائب صدر کی نشست پر 3 امیدوار شیخ حسیب بن یوسف، عبد الرحمان رانجھا اور عبدالرزاق چدھڑ مد مقابل ہیں جبکہ فنانس سیکرٹری کی نشست پرحسام بن شعیب کمبوہ بلا مقابلہ منتخب ہوچکے ہیں۔چیئرمین الیکشن بورڈ شہزاد احمد منڈ نے کہا ہے کہ انتخابات کے حوالے سے اچھی  تیاریاں کی گئی ہیں، لاہور ہائیکورٹ بار کے کل ممبران کی تعداد 44 ہزار 232 ہے جبکہ انتخابات میں 30 ہزار 763 رجسٹرڈ ووٹرز بائیومیٹرک سسٹم کے تحت ووٹ کاسٹ کرینگے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا

اسلام آباد:

ہائیکورٹ نے جاری اشتہار کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) میں نئی بھرتیوں پر عملدرآمد سے روک دیا۔

عدالت نے حکم دیا کہ اسامیوں کی بھرتی کے لیے جاری کیے گئے اشتہار پر مرکزی درخواست کے حتمی فیصلے تک عملدرآمد معطل رہے گا۔ جسٹس محمد اعظم خان نے یہ احکامات جاری کرتے ہوئے متفرق درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات بھی دور کر دیے۔

حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت درخواست کے میرٹ پر دیے بغیر متفرق درخواست کو منظور کررہی ہے۔ عدالت نے اشتہار پر عملدرآمد روکنے کی متفرق درخواست منظور کرتے ہوئے اسے نمٹا دیا، جبکہ مرکزی کیس کی سماعت کے لیے 22 اگست کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔

واضح رہے کہ اے این ایف کے کانسٹیبل محمد شفیق خان نے اپنے وکیل محمد علی رضا کے ذریعے اسامیوں کے اشتہار کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ درخواست میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ قانون اور ڈائریکٹر جنرل اے این ایف کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ گزشتہ 10 سال سے اے این ایف میں ایک ہی عہدے پر خدمات انجام دے رہا ہے، لیکن اسے کوئی ترقی نہیں دی گئی۔ اس نے بتایا کہ محکمہ کے 665 کانسٹیبلز کی سینیارٹی فہرست میں اس کا نمبر 232 ہے، اس کے باوجود محکمانہ ترقی کا حق نظر انداز کیا گیا۔

درخواست میں کہا گیا کہ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کا اجلاس بلائے بغیر نئی براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار جاری کرنا غیر قانونی ہے۔ مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اے این ایف کے سروس رولز کے تحت پہلے سے موجود ملازمین کی ترقی کا حق ختم کرکے براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار دیا گیا ہے۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ دیگر اداروں سے ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران کی غیر قانونی انٹری روک کر سویلین ملازمین کا سروس اسٹرکچر بحال کیا جائے۔ عدالت اے این ایف کا جاری کردہ حالیہ بھرتیوں کا اشتہار غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کرے اور تمام خالی اسامیوں پر محکمانہ ترقیوں کے لیے ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی فوری تشکیل دینے کا حکم جاری کرے۔

متعلقہ مضامین

  • غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • اسلام آباد ہائیکورٹ کا این سی سی آئی اے فیز 3 کے گریڈ 16 تا 18 کے افسران کو بڑا ریلیف
  • پی ڈی ایم اے پنجاب کا شدید بارشوں کا الرٹ، اربن فلڈنگ کا خدشہ
  • لاہور ڈیفنس فیز 5 میں گھر کی بیسمنٹ سے 53 سالہ شخص کی لاش برآمد
  • آزاد کشمیر انتخابات: لاہور ڈویژن کے کن 2 حلقوں میں پولنگ ہوگی؟
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • لاہور میں آج موسم ابرآلود، بارش کا کتنا امکان؟
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل