سعودیہ سمیت 6 ممالک سے مزید 48 پاکستانی ڈی پورٹ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2025 GMT
— فائل فوٹو
سعودی عرب، عمان اور متحدہ عرب امارات سمیت 6 مختلف ملکوں سے گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران مزید 48 پاکستانیوں کو بے دخل کر دیا گیا۔
امیگریشن ذرائع کے مطابق بے دخل ہونے والے 48 پاکستانیوں میں 5 کو مختلف ڈسٹرکٹ کی پولیس کے حوالے کیا گیا ہے۔
سعودی عرب سے بلیک لسٹ، بغیر پاسپورٹ، سزا پوری کرنے، زائد المیعاد کام، کفیل کے بغیر کام اور کام سے مفرور ہونے پر 31 افراد کو ڈی پورٹ کیا گیا ہے جبکہ عمان سے بلیک لسٹ، ویزا ختم ہونے اور غیر قانونی طور پر عمان میں داخل ہونے پر 12 پاکستانیوں کو بے دخل کیا گیا۔
سعودی عرب اور ملائیشیا سمیت 9 ملکوں سے 1 دن میں مزید 47 پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کر دیا گیا۔
ذرائع نے بتایا کہ امارات سے 2، قطر سے 1 اور آذربائیجان میں امیگریشن نے ناپسندیدہ قرار دے کر 1 پاکستانی کو بے دخل کیا جبکہ ڈی پورٹ کیے گئے 5 افراد کو لاڑکانہ، ڈیرہ غازی خان، فیصل آباد، حیدر آباد اور درخشان پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں امیگریشن ذرائع کے مطابق عراق، عمان اور سعودیہ کے وزٹ ویزوں کے 3 مسافروں کو بلیک لسٹ ہونے پر آف لوڈ کیا گیا۔
اس کے علاوہ عراق، یونان، آذربائیجان، سری لنکا، تھائی لینڈ اور فلپائن کے وزٹ ویزوں کے 13 مسافروں جبکہ بحرین اور سعودیہ کے ورک ویزوں کے 7 مسافروں کو آف لوڈ کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کیا گیا ڈی پورٹ گیا ہے
پڑھیں:
دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
کراچی : دیو ہیکل بحری جہاز ‘ایم ایس سی ڈیلیٹا ‘ کراچی پورٹ پر لنگر انداز ہوگیا ، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔تفصیلات کے مطابق دنیا کا دیو ہیکل کنٹینر بحری جہاز "ایم ایس سی ڈینلیٹا” کامیابی کے ساتھ کراچی پورٹ پہنچ گیا ہے اور کے پی ٹی کے مخصوص ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا۔کراچی پورٹ ٹرسٹ نے بتایا کہ یہ بحری جہاز اپنی نوعیت اور حجم کے اعتبار سے انتہائی وسیع ہے، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔کے پی ٹی کا کہنا تھا کہ 400 میٹر طویل اور 67 میٹر چوڑا یہ بحری جہاز 255,288 ڈیڈ ویٹ ٹن گنجائش رکھتا ہے، جو اسے دنیا کے بڑے تجارتی جہازوں میں شامل کرتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ اتنے بڑے جہاز کی آمد اس بات کا مظہر ہے کہ کراچی پورٹ جدید سہولیات اور بڑے بحری جہازوں کو سنبھالنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ادارے کے مطابق ایسے بڑے جہازوں کی آمد سے بندرگاہ کی استعداد میں مزید اضافہ ہوگا، عالمی شپنگ کمپنیوں کا اعتماد مضبوط ہوگا اور پاکستان کی تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔