پاک بھارت ٹاکرا: شاہین شاہ آفریدی نے اپنے عزائم ظاہر کر دیے
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2025 GMT
چیمپئنز ٹرافی کا سب سے بڑا مقابلہ روایتی حریفوں پاکستان اور بھارت کے درمیان شروع ہوچکا ہے سنسنی خیز میچ سے قبل شاہین شاہ آفریدی نے اپنے عزائم ظاہر کیے۔آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کا ہائی وولٹیج میچ دبئی کرکٹ اسٹیڈیم میں شروع ہوچکا ہے۔ اس سنسنی خیز میچ کے آغاز سے قبل پاکستان کے اسٹار فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی نے میچ سے متعلق اپنے عزائم ظاہر کیے۔شاہین شاہ آفریدی نے میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک بھارت میچ بہت بڑا ہے اور اس مقابلے کے لیے پوری ٹیم مکمل تیار ہے۔اسٹار پیسر کا کہنا تھا کہ اس سے قبل چیمپئنز ٹرافی سمیت ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت کو ہرا چکے ہیں۔ پوری کوشش کروں گا کہ آج کے میچ میں بہترین بولنگ کروں۔شاہین شاہ نے کہا آج کے میچ میں میرا پلان سادہ ہے کہ اپنی اسٹرینتھ کے ساتھ بولنگ کروں گا۔بھارتی اسپنر کلدیپ یادیو نے کہا کہ بنگلہ دیش کے خلاف اچھا میچ جیتا۔ پاکستان سے میچ کھیل کر ہمیشہ بہت مزا آتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: شاہین شاہ ا فریدی نے
پڑھیں:
موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
دین و دنیا پروگرام اسلام ٹائمز کی ویب سائٹ پر ہر جمعہ نشر کیا جاتا ہے، اس پروگرام میں مختلف دینی و مذہبی موضوعات کو خصوصاً امام و رہبر کی نگاہ سے، مختلف ماہرین کے ساتھ گفتگو کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔ ناظرین کی قیمتی آراء اور مفید مشوروں کا انتظار رہتا ہے۔ متعلقہ فائیلیں پروگرام: دین و دنیا
موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
مہمان: عالمہ رافعہ منیر
میزبان : مولانا سید تقی زیدی
پیش کار و مدیر: سید انجم رضا
پیشکش: آئی ٹائمز ٹی وی اسلام ٹائمز اردو
خلاصہ گفتگو:
کربلا میں عشق کے دو بلند ترین مینار ہیں: ایک سرورِ شہداء امام حسین علیہ السلام کی قربانی کا جلوہ، اور دوسرا اس آفتابِ عصمت کی تابناکی، جس کا نام حضرت زینب سلام اللہ علیہا ہے۔ یہیں پر خواتین کا کردار تاریخ کی سب سے درخشاں داستان بن کر ابھرتا ہے۔ بی بی زینبؑ نے نہ صرف اپنی آنکھوں سے بھائی کے لہو کا منظر دیکھا، بلکہ اپنی گفتار اور استقامت سے عاشورہ کی نہضت کو ابدی زندگی عطا کی، یزید کی باطل حکومت کو جوابِ شافی دیا اور اسے اخلاقی شکست کا مزہ چکھایا۔ کربلائی خواتین نے اپنے شوہروں، بھائیوں اور بچوں کو حوصلہ دیا کہ وہ اپنے امام کی راہ میں سبقت کریں؛ چنانچہ چھوٹے سے چھوٹے طفلِ شیرخوار نے بھی لبِ تشنہ سے قربانی کا یہ پیغام جگا دیا کہ عشقِ حسینی میں کسی کو کسی کی پروا نہیں، بس جلوۂ حق ہے اور اس کی خاطر ہر چیز فدا۔
یہ انفرادی جہاد ہی نہیں، بلکہ خواتین کا اجتماعی کردار بھی معاشرے کی تشکیل میں ناقابلِ فراموش حیثیت رکھتا ہے۔ شہیدِ امت، رہبر معظم انقلاب نے بارہا اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ معاشرہ خواتین کے کردار کے بغیر اپنی پختگی اور تکمیل نہیں پا سکتا۔ لہٰذا خواتین کو اپنے ہر شعبۂ زندگی، خاص طور پر علم و تعلیم کے میدان میں کمال حاصل کرنا چاہیے، کیونکہ بعض ذمہ داریاں ایسی ہیں جنہیں مرد انجام نہیں دے سکتے، مگر ایک باہوش، باصلاحیت اور تربیت یافتہ عورت انہیں بہترین انداز میں سرانجام دے سکتی ہے۔ یہی وہ راہ ہے جو کربلا کی درسگاہ سے نکلتی ہے اور ہر دور کی خواتین کو اپنی داخلی قوت کو پہچاننے اور اپنے معاشرتی فرائض کو پورا کرنے کا پیغام دیتی ہے۔