جوڈیشل کمیشن کی رکنیت سے اختر حسین کے مستعفی ہوجانے کے بعد پاکستان بار کونسل کی جانب سے جوڈیشل کمیشن کا نیا ممبر کون ہوگا، اس ضمن میں پاکستان بار کونسل کا اہم اجلاس 26 فروری بروز بدھ طلب کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ممبر جوڈیشل کمیشن کے لیے سینیئر وکیل احسن بھون کو نامزد کیے جانے کا امکان ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ پاکستان بار کونسل اپنے بدھ کے اجلاس میں ہی کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: ایڈووکیٹ اختر حسین جوڈیشل کمیشن کی رکنیت سے مستعفی

واضح رہے کہ ایڈووکیٹ اختر حسین نے جوڈیشل کمیشن کے رکن کی حیثیت سے اپنے عہدے سے استعفیٰ چیئرمین جوڈیشل کمیشن جسٹس یحییٰ آفریدی کو بھجوا دیا ہے، وہ جوڈیشل کمیشن میں پاکستان بار کونسل کی نمائندگی کرتے تھے۔

ذرائع کے مطابق اختر حسین نے استعفیٰ ججوں کے حالیہ تبادلوں کے تناظر میں ابھرنے والے ججوں کی سینیارٹی کے معاملے پر اختلافات کی وجہ سے دیا ہے، ان کا موقف ہے کہ وہ ججز سینیارٹی اور تبادلوں پر پاکستان بار کے موقف سے متفق نہیں تھے۔

مزید پڑھیں: جوڈیشل کمیشن نے سپریم کورٹ میں 6 ججوں کی تعیناتی کی منظوری دے دی

چیئرمین جوڈیشل کمیشن اور چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو بھیجے اپنے استعفیٰ میں اختر حسین ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ پاکستان بار کونسل نے انہیں آئینِ پاکستان 1973 کے آرٹیکل 175(A)(2)(vi) کے تحت 3  مرتبہ متفقہ طور پر جوڈیشل کمیشن کا رکن نامزد کیا۔

’اعلیٰ عدلیہ میں حالیہ تعیناتیوں کے معاملے پر مزید فرائض سرانجام نہیں دے سکتا، ممبر جوڈیشل کمیشن کے عہدے سے مستعفی ہو رہا ہوں، یقین دلاتا ہوں کہ عدلیہ کی آزادی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھوں گا۔‘

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ میں نئے تعینات ہونے والے ججز کون ہیں؟

ایڈووکیٹ اختر حسین نے اپنے استعفیٰ کی نقل پاکستان بار کونسل کو بھی ارسال کی ہے تاکہ آئین پاکستان 1973 کے تحت ان کی جگہ جوڈیشل کمیشن کا نیا رکن نامزد کیا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آئین پاکستان ایڈووکیٹ اختر حسین پاکستان بار کونسل چیئرمین جوڈیشل کمیشن سینیارٹی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا ئین پاکستان ایڈووکیٹ اختر حسین پاکستان بار کونسل چیئرمین جوڈیشل کمیشن سینیارٹی ایڈووکیٹ اختر حسین پاکستان بار کونسل جوڈیشل کمیشن کا

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان۔ترکیہ بزنس کانفرنس کاروبار کے نئے مواقع پیدا کرے گی : ہارون اختر خان
  • برطانوی ہائی کمیشن میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کے آغاز کی تقریب
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات