وفاقی حکومت نے پیکا کیخلاف درخواست پر جواب جمع کرانے کیلئے سندھ ہائیکورٹ سے مہلت مانگ لی۔قائم مقام چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس جنید غفار کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے پیکا  کیخلاف دائر درخواستوں پر سماعت کی۔سماعت شروع ہوئی تو قائم مقام چیف جسٹس جنید غفار نے کہا کہ یہ تو آئینی بنچ کا کیس بنتا ہے جس پر وکیل درخواست گزار نے کہا کہ یہ کیس آئینی بنچ کا نہیں ہے بلکہ عدالت سے ڈیکلریشن مانگی گئی ہے۔عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ یہ کیس بنیادی انسانی حقوق کے آرٹیکل 19 اے کا نہ ہوتا تو آج ہی مسترد کردیتے، اس پر بیرسٹر علی طاہر نے کہا کہ دو رکنی بنچ واضح کرچکا، ریگولر بنچ ڈیکلریشن دے سکتا ہے۔جسٹس جنید غفار نے کہا کہ اس ججمنٹ کا فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کریں اس فیصلے کا اطلاق اس کیس میں نہیں ہوتا، کیس آرٹیکل 19 اے کا بنتا ہے، استدعا میں ٹوئیسٹ کرکے ریگولر بنچ کا کیس بنانے کی کوشش کی گئی ہے،یہ نامناسب ہے۔وفاقی حکومت نے پیکا ایکٹ کیخلاف دائر درخواستوں پر جواب جمع کرانے کیلئے عدالت سے مہلت مانگ لی۔بعدازاں عدالت عالیہ نے پیکا ترمیم کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے آئینی بنچ کو بھیجتے ہوئے تمام فریقین کو آئینی بنچ کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی،پیکا ترمیم کے خلاف تمام درخواستوں کی سماعت آئینی بنچ 11 مارچ کو کرے گا۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: نے کہا کہ نے پیکا

پڑھیں:

موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔

پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔

 پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔

موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔

پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
  • سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست