کراچی:

سینیٹ قائمہ کمیٹی نے کراچی کے سب سے بڑے پانی کے منصوبے کے فور کی سست روی پر رپورٹ طلب کرلی۔

سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کا اجلاس سینیٹر شہادت اعوان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں دریاؤں پر تجاوزات، پانی کے بہاؤ اور سیلاب سے بچاؤ کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

سینیٹر خلیل طاہر نے کمیٹی کو بتایا کہ ڈیڑھ سال سے ایک کمپنی نے کے فور منصوبے پر کام بند کر رکھا ہے، منصوبے پر اربوں روپے کی لاگت آئے گی۔

سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ چولستان کنال کے لیے 211 ارب روپے کے فنڈز جاری ہو سکتے ہیں لیکن کراچی کے تین کروڑ شہریوں کے پانی کے منصوبے کے لیے فنڈز نہیں دیے جا رہے۔

قائمہ کمیٹی نے وزارت آبی وسائل سے کے فور منصوبے پر تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ واپڈا، سندھ حکومت اور پلاننگ کمیشن آئندہ اجلاس میں منصوبے کی پیش رفت پر تفصیلات فراہم کریں۔

سیکرٹری آبی وسائل نے کمیٹی کو بتایا کہ سرکاری اطلاعات کے مطابق منصوبے پر کام جاری ہے، تاہم فنڈز کی کمی کے باعث تاخیر کا سامنا ہے۔ چئیرمین کمیٹی نے واضح کیا کہ اگر منصوبے پر کام تیزی سے مکمل نہ ہوا تو وفاقی حکومت کو اس معاملے سے آگاہ کیا جائے گا۔

اجلاس کے دوران فیڈرل فلڈ کمیشن نے کمیٹی کو بریفنگ دی جس میں بتایا گیا کہ ہر سال صوبوں کی مشاورت سے تجاوزات کی تفصیلات طلب کی جاتی ہیں۔ بریفنگ کے مطابق 2024 کے اگست تک پنجاب کے تمام دریاؤں میں تجاوزات صفر تھیں، تاہم اگست 2024 سے فروری 2025 کے درمیان مختلف علاقوں میں تجاوزات رپورٹ ہوئیں۔

رپورٹ کے مطابق سرگودھا اریگیشن زون میں 153 تجاوزات، ملتان اریگیشن زون میں 676 تجاوزات سامنے آئیں، جبکہ لاہور اریگیشن زون میں کوئی تجاوزات رپورٹ نہیں ہوئیں۔ فیصل آباد، ڈی جی خان، بہاولپور اور پوٹھوہار زونز کا ڈیٹا تاحال موصول نہیں ہوا۔ سپارکو کے مطابق پنجاب میں 46 تجاوزات رپورٹ ہوئیں، جبکہ فیڈرل فلڈ کمیشن نے ابتدائی رپورٹ میں تجاوزات صفر ہونے کا دعویٰ کیا تھا، جس پر کمیٹی نے شدید تشویش کا اظہار کیا۔

کمیٹی نے فیڈرل فلڈ کمیشن کے فراہم کردہ اعدادوشمار میں تضادات پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ یہ ڈیٹا کہاں سے آتا ہے اور غلط معلومات فراہم کرنے پر کون سا ایکٹ لاگو ہوگا؟ سینیٹر ہمایوں مہمند نے اعداد و شمار میں غلط بیانی پر قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔

سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ اگر فلڈ کمیشن اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر سکتا تو اسے بند کر دینا چاہیے، کیونکہ یہ ایک بڑا ادارہ ہے اور اس کے کام میں شفافیت ہونی چاہیے۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ مون سون سے قبل دریاؤں سے تجاوزات مکمل طور پر ختم کیے جائیں اور اس حوالے سے ایک ماہ کے اندر درست اعدادوشمار پر مبنی رپورٹ پیش کی جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: قائمہ کمیٹی کمیٹی نے کے مطابق

پڑھیں:

پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع

حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔

ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔

سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف