چیئرمین مہاجر قومی موومنٹ آفاق احمد جیل سے رہا
اشاعت کی تاریخ: 26th, February 2025 GMT
سینٹرل جیل کے مرکزی دروازے پر آفاق احمد کا پرتپاک استقبال، فلک شگاف نعرے
رہائی کے بعد ڈمپرکی ٹکر سے ہلاک بچے صائم کے گھر پہنچے اوروالدین سے تعزیت کی
مہاجر قومی موومنٹ کے چیئرمین آفاق احمد کو رہا کردیا گیا۔ کراچی سینٹرل جیل کے مرکزی دروازے پر کارکنان نے آفاق احمد کا پرتپاک استقبال کیا، فلک شگاف نعرے لگاتے ہوئے کارکنان نے آفاق احمد پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔آفاق احمد کی رہائی کے موقع پر سینٹرل جیل کے چاروں اطراف کارکنان بڑی تعداد میں موجود تھے ۔ آفاق احمد سینٹرل جیل سے بفرزون میں گزشتہ ہفتے ڈمپر کی ٹکر سے ہلاک 10 سالہ بچے صائم کی رہائش گاہ پہنچے اور اہلخانہ خانہ سے ملاقات کی، ملاقات کے دوران متوفی بچے کے والدین آبدیدہ ہوگئے ۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے مہاجر قومی موومنٹ کے چیئرمین آفاق احمد نے کہا کہ جیل سے گھر جانے کے بجائے ان لوگوں کے گھر آیا ہوں، یہاں کے شہریوں کو انسان نہیں بھیڑ بکری سمجھا جارہا ہے ، حالات کچھ بھی ہوں ، میں اپنا کردار ادا کرتا رہوں گا۔ آفاق احمد نے کہا کہ میں نے جو جدوجہد شروع کی ہے اس سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ میں پریس کانفرنس کے ذریعے اپنی آئندہ کی حکمت عملی بتاؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ اس شہر میں 5، 5 دن سے پانی، بجلی نہیں، لوگ بلک رہے ہیں، جہانگیر روڈ پر خواتین احتجاج کررہی ہیں۔ چیئرمین مہاجر قومی موومنٹ آفاق احمد نے کہا کہ کے الیکٹرک اور واٹر کارپوریشن سے اپیل کرتا ہوں کہ پانی بجلی بحال کریں اگر پانی، بجلی بحال نہ ہوا تو اس احتجاج میں میں بھی خود شریک ہوں گا۔انہوں نے کہا کہ ان حادثات کو صرف حادثہ کہہ کر انتظامی معاملہ کہہ دینا زیادتی ہے ، یہ انتظامی نہیں بلکہ انسانی معاملہ ہے ، اس پر چپ نہیں بیٹھوں گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: مہاجر قومی موومنٹ سینٹرل جیل آفاق احمد نے کہا کہ
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔