ریٹارئرمنٹ کے متعلق خبروں پرقومی کرکٹر فخرزمان کا بیان آگیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, February 2025 GMT
قومی کرکٹر فخرزمان نے ریٹارئرمنٹ کے حوالے سے آنے والی خبروں کی تردید کردی ۔
فخرزمان نے پی سی بی ڈیجیٹل کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ میں نے بھی ریٹارئرمنٹ کے حوالے سے کافی خبریں سنی ہیں، میری ریٹائرمنٹ کے حوالے سے خبریں غلط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ون ڈے فارمیٹ میرا پسندیدہ فارمیٹ ہے، تھائی رائیڈ کی وجہ سے سوچا تھا کہ کرکٹ سے کچھ دیر بریک لوں، ابھی تک میرے ذہن میں ایسا کچھ نہیں ہے، میں چاہتا ہوں کہ ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کھیلوں، انشاء اللہ ڈاکٹرز کی ہدایت کے مطابق ایک مہینے کے اندر اندر دوبارہ ٹریننگ شروع کروں گا ۔
انہوں نے کہا کہ چیمپئنز ٹرافی بڑا ایونٹ ہے ، 2017 چیمپئنز ٹرافی کے ساتھ کافی یادیں ہیں، میرے ذہین میں تھا کہ شاید یہ ٹورنامنٹ میرے لئے لکی ثابت ہو گا، ون ڈے فارمیٹ ایسا ہے جو میں پسند کر تا ہوں، میں نے اس ٹورنامنٹ کے لئے خصوصی طور پر کافی کچھ سوچا ہوا تھا، بیماری سے جب ٹھیک ہوا تو اسی ٹورنامنٹ کے لئے تیاری شروع کر دی تھی، ڈاکٹرز نے کہا تھا کہ آپ زیادہ وقت لو مگر میں نے پہلے ہی تیاری شروع کر دی تھی۔ انہوں نے کہاکہ میں سمجھتا ہوں کہ کافی مضبوط ہوں ، میرے اوپر کافی بار اس طرح کا وقت آیا ہے، اپنے جذبات پر قابو نہیں پاتا کبھی کبھی، بیٹے نے بھی کہاکہ تھا آپ درد میں کھیل رہے تھے۔
فخر زمان نے بتایا کہ جب انجری ہو گئی تو درد سے اندازہ ہو گیا تھا کہ میرے لئے چیمپئنز ٹرافی ختم ہو گئی، نیوزی لینڈ کےخلاف اگر اوپننگ کرتا تھا تو شایدچیزیں مختلف ہوتیں۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ ٹارگٹ میں اوپنرز کا رول ہوتا ہے کہ پہلے 10 اوورز میں تیز رنز کریں۔
انہوں نے کہا کہ انجری کے دوران فیلڈنگ اسی لئے کی تھی تاکہ اوپن کروں، کبھی کبھی لوگوں کی امیدیں زیاد ہ ہوتی ہیں مگر آپ کچھ کر نہیں سکتے۔ مزید کہا کہ میں نے ریڈبال پر بھی فوکس کیا مگر کوچز کی اپنی پلاننگ ہوتی ہے ، ابھی بھی چاہتا ہوں کہ ریڈبال کھیلوں، آج کل اسٹرائیک ریٹ زیادہ ضروری ہے، اگر رسک لیتے ہیں تو رنز بن سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ تھا کہ
پڑھیں:
نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری کردیاگیا
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری کردیاگیا۔
نجی ٹی وی چینل جیونیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عدالتیں میڈیا کی پذیرائی یا عوامی مقبولیت کے کیلئے فیصلے نہیں کرسکتیں ،عدالت کا بنیادی فرض آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہے،قانون سے ہٹ کردائرہ اختیار کو اختیار کرنا یافرض کر لینا عدالتی اصولوں کے منافی ہے،عدالت نہ غیرقانونی دائرہ اختیار استعمال کر سکتی ہے، نہ قانونی دائرہ اختیار سے دستبردار ہو سکتی ہے،دائرہ اختیار کا تعین صرف آئین اور قانون کرتے ہیں۔
سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 175کے تحت ہر عدالت صرف وہی دائرہ اختیار استعمال کرسکتی ہے جو آئین یا قانون نے دیا ہو، آئین اور قانون کی مقررہ حدود سے تجاوز اختیارات سے ناجاز تجاوز کے مترادف ہے،دائرہ اختیار کے بغیر دیا گیا فیصلہ کالعدم اورغیرموثر ہوتا ہے،دائرہ اختیار کے بغیر فیصلے کو رم نان جوڈائس کے اصول کی زد میں آتے ہیں،ہر عدالت اپنے آئینی اور قانونی دائرہ اختیار کی پابند ہے،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے دائرہ ہائے اختیار الگ الگ ہیں،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے اختیارات ایک دوسرے پر حاوی نہیں ،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ ایک دوسرے کے اختیار میں مداخلت بھی نہیں کر سکتے۔
اداکارہ روما مائیکل اداکار شان بیگ سے شادی کے بندھن میں بندھ گئیں
عدالت نے کہاکہ ایک ہی مقدمے پردو متوازی عدالتی دائرہ ہائے اختیار قانون میں قابل قبول نہیں،ایک ہی مقدمے میں ضمانت سپریم کورٹ اوراپیل وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چل سکتی،جہاں قانون اپیل کا حق فراہم نہ کرے وہاں فریق اپنے پسند سے نیا قانونی راستہ اختیار نہیں کرسکتا، قانون فورم شاپنگ یعنی پسند کی عدالت منتخب کرنے کے رجحان کی اجازت نہیں دیتا، صرف فریقین کی خواہش یا رضا مندی سے عدالت دائرہ اختیار استعمال نہیں کرسکتی،عدالت فریقین کی منشاء یا خواہش پر لامحدود دائرہ اختیار استعمال نہیں کر سکتی۔
آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک
مزید :