ویب ڈیسک : سوئی سدرن  نے اعتراف کیا ہے کہ گیس کو ایل پی جی بناکر بیچنے کا منصو بے سے صارفین کو گیس ملنے میں مزید کمی آجائیگی،

سوئی گیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ جوائنٹ وینچر گیس کو ایل پی جی بناکر نجی مارکیٹ میں بیچے گی، قائمہ کمیٹی نے معاہدے کی تفصیلات مانگ لیں ،قائمہ کمیٹی پیٹرولیم میں سوئی گیس حکام نے انکشاف کیا ہے کہ وہ جامشورو جوائنٹ وینچر لمیٹڈ سے معاہدہ کرنے جارہے ہیں جو گیس کو ایل پی جی میں کنورٹ کرکے بیچے گی تاہم اس سے مقامی صارفین کو گیس کی طلب میں مزید کمی واقع ہوگی۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کا سید مصطفیٰ محمود کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا۔ کمیٹی کو ملک میں گیس اور تیل کے ذخائر پر بریفنگ دی گئی۔

ملک کی سب سےبڑی نیشنل ٹرانسمیشن اینڈڈسپیچ کمپنی کو 1کروڑروپےکاجرمانہ عائد

رکن کمیٹی شاہد خان نے کہا کہ کے پی میں قدرتی ذخائر وافر تعداد میں موجود ہیں، کیا کے پی میں قدرتی ذخائر کے حوالے سے سروے کیا گیا ہے؟ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں اس حوالے سے تفصیلات طلب کرلیں۔

کمیٹی میں گیس ذخیرہ کرنے کے لیے اسٹوریج کے منصوبے پر بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ ملک میں گیس اسٹوریج بنانے کی ضرورت محسوس ہوئی، ضرورت محسوس ہونے کے بعد یہ منصوبہ شروع کرنے پر غور ہو رہا ہے، بعدازاں کمیٹی نے گیس اسٹوریج بنانے کے منصوبے کو بند کرنے کی سفارش کردی۔ رکن کمیٹی سردار غلام عباس نے کہا کہ منصوبے بنانے سے پہلے دیکھ لیا جائے کہ اس کی ضرورت ہے کہ نہیں، پہلے سنا تھا کہ بلوچستان سے سونے کے ذخائر نکل آئے وہ ذخائر کہاں ہیں؟ پہلے دیکھ لیا جائے کہ کیا ہے اور کیا نہیں ہے۔کمیٹی نے وزیر مملکت پیٹرولیم کی عدم شرکت پر اظہار برہمی کیا اور کہا کہ سیکرٹری ملک سے باہر ہیں سمجھ سکتے ہیں، وزیر پیٹرولیم کو کمیٹی میں آنا چاہیے تھا۔پیٹرولیم حکام نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل نے فارمولا رکھا ہے، نئی دریافت پر 35 فیصد گیس نجی سیکٹر کو فروخت کرسکتے ہیں، پیٹرولیم سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے پر کوشش ہو رہی ہے۔رکن کمیٹی اسد نیازی نے کہا کہ ڈی ریگولیٹ کی صورت میں صوبوں کا کیا ہوگا؟ اس پر پیٹرولیم حکام نے کہا کہ سندھ نے یہ معاملہ دوبارہ مشترکہ مفادات کونسل میں اٹھانے کی بات کی ہے۔رکن شاہد احمد نے کہا کہ ملک میں پہلے ہی گیس کم ہے، سوئی سدرن گیس جامشورو جوائنٹ وینچر لمیٹڈ کے ساتھ معاہدہ کرنے جا رہی ہے۔

فاروق ستار بڑے سیاسی شعبدہ باز ہیں، شرجیل میمن کا پریس کانفرنس پر ردعمل

سوئی سدرن حکام نے کہا کہ ہم جے جے وی ایل کے ساتھ معاہدہ کرنے جا رہے ہیں لیکن اس کا مقامی گیس پر اثر آئے گا، جے جے وی ایل ، ایل پی جی بنا کر نجی مارکیٹ میں بھیجے گی۔چئیرمین کمیٹی نے کہا کہ اس معاہدے سے سوئی سدرن کی اپنی گیس تو کم ہوگی اس پر سوئی گیس حکام نے تسلیم کیا کہ جے جے وی ایل سے معاہدے سے مقامی گیس کم ہوجائے گی۔ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں جے جے وی ایل کے ساتھ معاہدے کی تفصیلات طلب کرلیں۔اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات کی ڈی ریگولیشن پالیسی اور ڈیلرز کے تحفظات کا معاملہ زیر غور آیا۔ ارکان کمیٹی نے کہا کہ پیٹرولیم ڈیلرز کے اس پر تحفظات ہیں انہیں بلایا جائے۔

سویلینز کا ملٹری ٹرائل کیس:لگتا ہے اے ٹی سی عدالتوں کے ججز کی انگریزی کےکافی مسائل ہیں: جج آئینی بینچ

وزارت پیٹرولیم حکام نے کہا کہ  پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں روزانہ تبدیل ہوں یا ہفتہ وار اس پر بات چیت جاری ہے، اگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ڈی ریگولیٹ ہوئیں تو کچھ علاقوں کو نقصان ہوگا، حکومت 12 روپے فی لیٹر مارجن سے دیگر قیمتوں کو یکساں رکھتی ہے، ڈی ریگولیشن پر ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔چیئرمین اوگرا نے کہا کہ پیٹرولیم ڈیلرز کی جانب سے ہڑتال کی کال مس انڈراسٹینڈنگ ہے، ڈیلرز کو خطرہ ہے کہ آئل کمپنیاں ان کو مارجن نہیں دیں گی۔قائمہ کمیٹی نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کرنے کی تجویز پر آئندہ اجلاس میں چیئرمین اوگرا اور ڈیلرز کو بلالیا۔

قذافی سٹیڈیم:انگلینڈ، افغانستان میچ کےدوران نوجوان پچ پر پہنچ گیا،مقدمہ درج

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: پیٹرولیم مصنوعات کی گیس کو ایل پی جی حکام نے کہا کہ جے جے وی ایل قائمہ کمیٹی ڈی ریگولیٹ اجلاس میں کمیٹی نے

پڑھیں:

امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل

امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل تیرہویں رات بھی فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف ’بہت بڑے حملے‘ کا فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی جارحیت میں مزید اضافہ ہوا تو اس کی قیمت واشنگٹن کو پہلے سے کہیں زیادہ چکانا پڑے گی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق تازہ کارروائی 2 گھنٹے سے زائد جاری رہی، جس کے دوران ایران کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت، بالخصوص ساحلی نگرانی، فضائی دفاع اور فوجی انفراسٹرکچر کو مزید کمزور کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی پھر شدت اختیار کرگئی، کیا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے؟

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران نے ابھی تک ’کافی تکلیف نہیں دیکھی‘ اور وہ ایک بڑے پیمانے کے حملے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ امریکی صدر کے اس بیان نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے اور عالمی سطح پر خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ جنگ مزید وسیع ہو سکتی ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’بے معنی جارحیت‘ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے امریکا کو زیادہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

???? 13TH STRAIGHT NIGHT OF POUNDING IRAN.

U.S. forces just completed another round of strikes on Iranian military targets.

Command centers.

Drone storage.

Communication networks.

Coastal surveillance.

Maritime capabilities.

AMERICA KEEPS WINING ✌️???????????????? https://t.co/0y5aM7FeEr pic.twitter.com/0AWYpSnco6

— Xander Xand (@Xander24Xand) July 24, 2026

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران تہران، خنداب، خرم آباد، کنارک اور جاسک سمیت مختلف شہروں میں دھماکوں، میزائل حملوں اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بعض علاقوں میں فضائی دفاعی نظام نے آنے والے اہداف کو روکنے کی کوشش کی، تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔

دوسری جانب برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر اس کے مفادات یا سرزمین کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو اس کی مسلح افواج دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ یہ بیان ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی اس وارننگ کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکی بمبار طیارے برطانوی اڈوں سے ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہوئے تو ان اڈوں کو بھی ممکنہ اہداف سمجھا جا سکتا ہے۔

???????? U.S. STRIKES IRAN FOR 13TH CONSECUTIVE NIGHT

The U.S. military has launched another round of strikes against Iran, marking the 13th consecutive night of attacks.

CENTCOM: “US forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET (2245 GMT)… pic.twitter.com/iDXtuU2CJE

— Mossad Commentary (@MOSSADil) July 24, 2026

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنگ کے پھیلنے سے عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے باعث خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ عالمی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں مزید عسکری کارروائیاں پورے خطے کو ایک بڑے بحران میں دھکیل سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا ایران خلیج صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ

متعلقہ مضامین

  • چیئرمین رویت ہلال کمیٹی کا پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس ہیڈکوارٹر کا دورہ، منشیات کے خلاف مشترکہ اقدامات پر اتفاق
  • پیٹرولیم قیمتوں کا روزانہ تعین، سینیٹ قائمہ کمیٹی نے وضاحت طلب کر لی
  • Google سیلفی ویڈیو فیچر، اکاؤنٹ سائن اِن مزید محفوظ بنانے کا نیا طریقہ
  • اسلام آباد کچہری میں سموسے کیساتھ چٹنی نہ ملنے پر ہنگامہ
  • کراچی: کیماڑی سے اغواء 7 سالہ بچی کیساتھ قتل سے پہلے زیادتی کی تصدیق
  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے