قائمہ کمیٹی نے اگنائیٹ کو ورچوئل پروڈکشن سٹوڈیو کی بولی کے عمل سے روک دیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, February 2025 GMT
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی نے ورچوئل پروڈکشن سٹوڈیو کی بولی کے عمل میں شفافیت سے متعلق اٹھنے والے سوالات کے بعد اگنائیٹ کو بولی کا عمل مکمل کرنے سے روک دیا ، قائمہ کمیٹی نے اگنائیٹ کے چیف اگزیکٹو عدیل اعجاز سے بولی کا تمام ریکارڈ طلب کرتے ہوئے ایک نکاتی ایجنڈا پر کمیٹی اجلاس آئندہ ہفتے دوبارہ طلب کرلیا ۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی اور ٹیلی کام نے چیئر پرسن سینیٹر پلوشہ خان کی زیرصدارت اجلاس میں ورچوئل پروڈکشن سٹوڈیو منصوبہ سے متعلق معاملات کا جائزہ لیا ۔ اگنائیٹ کے چیف اگزیکٹو عدیل اعجاز اور دیگر افسران ورچوئل پروڈکشن سٹوڈیو کے قیام کی بولی کے عمل سے متعلق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے ۔ بولی میں ناکام قرار دی گئی کمپنی کیوب سٹوڈیو انگلینڈ کے چیف ایگزیکٹو جیمز ہیکسلے نے کمیٹی کو اپنے موقف سے آگاہ کیا ۔ کمیٹی ممبران نے اگنائیٹ حکام سے سوال کیا کہ پہلی بولی میں کامیاب بولی دہندہ کمپنی این ٹی ایس کیوب سٹوڈیو کو کس بنیاد پر دوسری بولی سے آئوٹ کیا؟ جس پر اگنائیٹ حکام نے بتایا کہ این ٹی ایس یو کیوب کی مالی حیثیت آر ایف کے مطابق نہیں تھی ، اگنائیٹ کا موقف مسترد کرتے ہوئے این ٹی ایس کیوب سٹوڈیو کنسورشیم کی جانب سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس کی مالی حیثیت ایک ارب سے زائد بنتی ہے جبکہ آر ایف پی میں صرف 20 کروڑ کی مالی حیثیت کا تقاضا کیا گیا تھا ۔قائمہ کمیٹی آئی ٹی کے ممبران نے اگنائیٹ کے اعتراض کو مسترد کردیا ۔
سینیٹر انوشہ رحمان نے کہا کہ پہلی بولی کی بنیاد پر اگنائیٹ کو ورچوئل پروڈکشن سٹوڈیو کا پراجیکٹ این ٹی ایس کیوب سٹوڈیو کو دینا چاہیے تھا ۔ پیپرا رولز میں اکلوتی کمپنی کو بولی میں کامیابی پر پراجیکٹ دینے کی کوئی ممانعت نہیں۔ بتایا جائے کہ پہلی بولی میں این ٹی ایس کیوب سٹوڈیو کی کامیابی کے انہیں پراجیکٹ کیوں نہ دیا گیا ؟ ۔ انہوں نے کہا کہ اگنائیٹ کے حوالے سے مسائل مسلسل آرہے ہیں ۔اگنائیٹ نے پہلے بھی بعض ٹیلی کام کمپنیوں کو بولی کے عمل سے باہر کیا ۔
چیف ایگزیکٹو اگنائیٹ عدیل اعجاز نے بتایا کہ پہلی بولی کی بنیاد پر این ٹی ایس کیوب سٹوڈیو کو پراجیکٹ دینے کی بجائے صحت مند مقابلے کے لیے دوبارہ بولی کا فیصلہ کیا تھا جس میں تین کمپنیوں نے حصہ لیا ۔ سینیٹر انوشہ رحمان نے کہا کہ پیپرا رولز میں صحت مند مقابلے کا کہیں نہیں لکھا ۔ اپنی مرضی کے لوگوں کے جیتنے کے لیے بولی بار بار کرانا پیپرا رولز میں شامل نہیں ، چیئر پرسن آئی ٹی کمیٹی پلوشہ خان اور ممبران نے اگنائیٹ کے موقف کو مسترد کردیا ۔ پی ٹی آئی کے سینیٹر ہمایوں مہمند نے کہا کہ محسوس ہوتا ہے پہلی بولی میں ناکام قرار پانے والی دونوں کمپنیوں کو موقع فراہم کیا گیا ۔پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کار اس لیے نہیں آتے کہ من پسند افراد کو نوازا جاتا ہے ۔نیوٹرل ماہرین کے ذریعے بولی دہندگان کا تکنیکی جائزہ لیا جانا چاہیے ۔ این ٹی ایس کیوب سٹوڈیو کے ساتھ زیادتی کی جارہی ہے ۔اگنائیٹ کو ورچوئل پروڈکشن سٹوڈیو منصوبہ کی دوبارہ بولی کرنی چاہیے ،
کمیٹی ارکان کے مطالبہ پر اگنائیٹ حکام یہ ریکارڈ فراہم کرنے میں ناکام رہے کہ دوسری بولی میں ناکام دونوں کمپنیوں کو اب کس بنیاد پر کامیاب قرار دیا گیا ۔چیئر پرسن پلوشہ خان نے سوال کیا کہ اگنائیٹ حکام ورچوئیل ٹیکنالوجی کے ماہر نہیں تو انہوں نے تکنیکی جائزہ کیسے لیا ؟ اگنائیٹ حکام نے جواب دیا کہ ہم نے ورچوئیل ٹیکنالوجی کو سال ڈیڑھ سال تک سمجھا ،۔ سینیٹر پلوشہ خان نے کہا سمجھنے سے تو کوئی ٹیکنالوجی پر ماہر نہیں بن جاتا ۔آپ مجھے تکنیکی جائزہ کے لیے ایٹم بم دے دیں ، میں تو یہ نہیں کرسکتی ۔پلوشہ خان کے فقرے پر کمیٹی روم قہقہوں سے گونج اٹھا ۔
سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ بولی کے ایسے عمل سے حکومت اور پاکستان کی بدنامی ہو ۔ اگنائیٹ حکام کی جانب سے تسلی بخش جواب نہ ملنے پر قائمہ کمیٹی نے متفقہ طور پر بولی کا عمل روکنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ورچوئل پروڈکشن سٹوڈیو کے معاملہ پر آئندہ ہفتے قائمہ کمیٹی آئی ٹی کا اجلاس دوبارہ ہوگا ۔ اگنائیٹ حکام آئندہ اجلاس میں بولی سے متعلق تمام ریکارڈ پیش کریں
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اگنائیٹ حکام قائمہ کمیٹی بولی کے عمل اگنائیٹ کے نے اگنائیٹ اگنائیٹ کو پلوشہ خان میں ناکام نے کہا کہ بولی میں بنیاد پر کمیٹی ا بولی کا ا ئی ٹی
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم