Express News:
2026-07-24@15:25:03 GMT

شوکت خانم کینسر اسپتال ایک بڑا فلاحی منصوبہ

اشاعت کی تاریخ: 28th, February 2025 GMT

شوکت خانم کینسر اسپتال ایک ایسا فلاحی منصوبہ جس کی تکمیل آسان کام نہیں تھا۔ایک ایسا منصوبہ جس کی بنیاد ہی عوامی فنڈز پر ہو اور عوام کے وسائل کی بنیاد پر ہی اس کی تعمیر و تشکیل کو ممکن بنایا گیا ہو، اس کی مثالیں کم ہی دیکھنے کو ملتی ہیں۔بہت سے لوگوں نے بانی پی ٹی آئی کو یہ ہی مشورہ دیا تھا کہ اول تو اس طرح کا وہ کوئی منصوبہ نہ شروع کریں کیونکہ لوگ مستقل بنیادوں پر اس کی مالی مدد نہیں کریں گے ۔دوئم، کیونکہ کینسر کا علاج دنیا میں سب سے مہنگا ہوتا ہے تو اس کو فنڈز کی بنیاد پر چلانا ممکن نہیں ہوگا۔عام آدمی کے چھوٹے سے فنڈ کی بنیاد پر اسپتال چلانے ایک بڑھک ہی ہوگی۔

لیکن عوامی مدد اور حمایت سمیت مالی مدد نے ثابت کیا کہ اس طرح کے فلاحی منصوبوں میںلوگ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور ناممکن کو ممکن بنانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ یہ کینسر اسپتال بنا تو لوگوں کو یقین کرنا مشکل ہوگیا تھا کہ واقعی ایسا ہو گیا ہے،اس وقت بھی بہت سے لوگوں نے پیش گوئی کی تھی اس کا چلنا ممکن نہیں ہوگا لیکن یہ فلاحی ادارہ آج تک چل رہا ہے۔ یہ واحد اسپتال ہے جو مکمل طور پر کینسر کے علاج کے لیے وقف ہے۔

جب کہ دیگر اسپتال صرف کینسر کے لیے مختص نہیں ہیں۔پاکستان میں کینسر کے مریضوں کی تعداد کے مقابلے میں کینسر اسپتالوں کی شدید کمی ہے جس کی وجہ سے مزید جدید اور مختص کینسر اسپتال کی تعداد میں اضافہ ہونا چاہیے۔شوکت خانم کینسر اسپتال بنیادی طور پر عطیات، زکوۃ اور خیراتی تعاون سے چل رہا ہے۔یہاں کینسر کے مریضوں کے علاج کے لیے جدید طبی ٹیکنالوجی بنیادی ڈھانچے سے لیس نظام موجود ہے۔ یہاں مریضوں کو علاج اور فالواپ کیئر فراہم کیا جاتا ہے جس میں کیموتھراپی، ریڈییشن تھراپی اور سرجیکل انکالوجی شامل ہے۔ تقریباً 75 فیصد مریضوں کا علاج مفت کیا جاتا ہے تاکہ مستحق اور غریب افراد کی کینسر جیسے مرض یا علاج تک رسائی کو ممکن بنایا جا سکے۔یہ کینسر کی تحقیق اور طبی تعلیم کا مرکز بھی ہے جو انکالوجی کے شعبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

کینسر کے مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے صرف جسمانی نہیں بلکہ مریضوں کے جذباتی اور نفسیاتی مسائل پر بھی توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔یہاں کا پورے نظام میں شفافیت کے اعلی معیارات کو برقرار رکھا گیا ہے جس میں سالانہ آڈٹ، عوامی سطح کی رپورٹ شامل ہے ۔اسی طرح اس اسپتال کی بین الاقوامی صحت کی تنظیموں سے منظور شدہ پہچان اور عمدگی یا ساکھ اس عزم کو ظاہر کرتا ہے کہ اسپتال کو چلانے کے معاملات میں عالمی معیارات کو برقرار رکھا گیا ہے۔ یہی اسپتال کینسر سے بچاؤ اور ابتدائی تشخیص کے بارے میں عوام کو تعلیم دینے کے لیے بھی سرگرم ہے۔

اسپتال نے پنک ربن مہم کے تعاون سے ایسے منصوبے کے تحت عورتوں میں بریسٹ کینسر کے بارے میں آگاہی بڑھانے کے پروگرام بھی شروع کیے ہوئے ہیں تاکہ متاثرہ خواتین کی اس شعبہ میں مدد کی جا سکے اور ان کو اس کے اثرات سے آگاہ بھی کیا جاسکے۔ یہ اسپتال فلاحی صحت کے اداروں کے لیے ایک ماڈل منصوبے کی حیثیت رکھتا ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے اجتماعی کوششوں سے کیسے بڑی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔

لاہور کے بعد اب پشاور اور کراچی تک یہ نیٹ ورک پھیل گیا ہے اور بہت جلد وہاں بھی کینسر کے مریضوں کا مفت علاج ممکن ہو سکے گا۔اس اسپتال میں تمام مریضوں کو یکساں علاج فراہم کیا جاتا ہے چاہے ان کی مالی حیثیت، نسل یا رنگ کچھ بھی ہو۔کسی بھی تعلق کی بنیاد پر مریضوں سے ڈیل نہیں کیا جاتا اور نہ ہی آپ کو یہاں کسی قسم کی کوئی سیاسی مداخلت دیکھنے کو ملتی ہے ۔اس ادارے کا نظام میرٹ پر قائم کیا گیا ہے اور اسی بنیاد پر اس کے نظام کو آج بھی قائم رکھا گیا ہے اور اس کا اعتراف ہر سطح پر کیا جاتا ہے۔

میںذاتی طور پر ایسے بہت سے مریضوں کو اور بالخصوص بچوں کو جانتا ہوں جنھوں نے یہاں اپنا علاج کرایا ہے ۔یہاں کا ڈسپلن ہے اور اس پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاتا۔اسی بنیاد پر لوگ اس اسپتال کے انتظامات پر نہ صرف اعتماد کرتے ہیں بلکہ مالی تعاون یا عطیات بھی دیتے ہیں۔پشاور اور کراچی تک اس فلاحی ادارے کا پھیلاؤ ظاہر کرتا ہے کہ لوگوں کے اعتماد کے ساتھ اس قسم کے فلاحی منصوبوں کو چلایا جا سکتا ہے۔بہت سے لوگ اس کی بہت سی حکمت عملی اور پالیسیوں پر تنقید بھی کرتے ہیں۔

اسپتال کی پالیسیاں اور حکمت عملی پر تنقید کرنا لوگوں کا حق ہے لیکن ایک بات بالکل بجا ہے کہ اس اسپتال نے اپنی شفافیت کی بنیاد پر ایسے داخلی معیارات قائم کیے ہوئے ہیں جس کا اعتراف عالمی سطح پر موجود ادارے بھی کرتے ہیں۔ ویسے بھی ایسا اسپتال عوامی تائید و حمایت یا بھروسے کی بنیاد کے بغیر چل ہی نہیں سکتا۔میں ایسے بہت سے لوگوں کو جانتا ہوں جو بانی تحریک انصاف کی سیاسی پالیسیوں کے سخت مخالف ہیں اور ان کی سیاست سے بھی وہ فاصلے پر ہیں مگر اس فلاحی ادارے کو اچھی نظر سے دیکھتے ہیں اور مالی تعاون کرتے ہیں۔

اس قسم کے فلاحی ادارے بنانا اور چلانا معمولی کام نہیں ہے،اگر پاکستان کے چند بڑے شہروں میں مزید فلاحی شفا خانے بن سکیں تو اس سے پاکستان کینسر کے مریضوں کو زیادہ بہتر علاج مفت بنیادوں پر فراہم کر سکتا ہے۔ویسے بھی اس کینسر اسپتال کو سیاست سے الگ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس ملک میں ہمارے پاس اس طرح کے بڑے فلاحی ادارے کم ہیں تو ہمیں ایسے اداروں کی حوصلہ افزائی یا پذیرائی کرنی چاہیے تاکہ یہ عوامی خدمت میں زیادہ بہتر طور پر اپنا کردار ادا کر سکیں۔

اس لیے رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں ہمیں زیادہ سے زیادہ اپنے عطیات، خیرات،زکوٰۃ شوکت خانم کینسر اسپتال کو دینے چاہیے اور آپ دیگر فلاحی منصوبوں کو بھی دیں جو اچھا کام کر رہے ہیں اور وہ بھی آپ کے تعاون کا حق رکھتے ہیں ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کینسر کے مریضوں فلاحی ادارے کیا جاتا ہے کی بنیاد پر اسپتال کی مریضوں کو اس اسپتال کرتا ہے ہیں اور بہت سے گیا ہے ہے اور

پڑھیں:

اسلامی اقدار اور جدید دور

آج کی دنیا اپنی رفتار، اپنی چمک اور اپنی پیچیدگی کے باعث پہلے سے کہیں زیادہ متنوع ہو چکی ہے۔ ٹیکنالوجی نے فاصلے سمٹائے ہیں، معلومات کی فراوانی پیدا کی ہے، اور زندگی کے بے شمار شعبوں میں سہولتیں فراہم کی ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ انسان کے اندرونی سکون، اخلاقی توازن، خاندانی استحکام اور روحانی وابستگی میں ایک واضح کمی بھی محسوس ہوتی ہے۔ یہ وہ خلا ہے جسے صرف مادی ترقی پر نہیں کر سکتی۔ اس خلا کو وہ اقدار پر کرتی ہیں جو انسان کو اس کی اصل پہچان، اس کے مقصدِ حیات اور اس کی اخلاقی ذمہ داریوں سے جوڑتی ہیں، اور اسلامی اقدار اسی ضرورت کا جواب ہیں۔
اسلام محض چند عبادات یا رسومات کا نام نہیں، بلکہ ایک جامع نظامِ زندگی ہے۔ یہ انسان کے عقیدے کو بھی درست کرتا ہے، اس کے اخلاق کو بھی سنوارتا ہے، اس کے معاملات کو بھی راہ دکھاتا ہے، اور اس کے اجتماعی رویوں کو بھی متوازن بناتا ہے۔ سچائی، امانت، عدل، حیا، رحم، خدمت، صبر، شکر اور ذمہ داری جیسے اصول اسلام کی روح ہیں۔ یہ اصول کسی ایک زمانے، کسی ایک تہذیب یا کسی ایک معاشرے تک محدود نہیں، بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ جدید دور میں، جب مفاد پرستی، خود غرضی، دکھاوا، بے صبری اور اخلاقی بے راہ روی عام ہوتی جا رہی ہے، اسلامی اقدار پہلے سے زیادہ اہم ہو گئی ہیں۔
آج انسان بظاہر زیادہ باخبر ہے، مگر اندر سے زیادہ بے چین بھی ہے۔ اس کے پاس ذرائع ابلاغ کی بے پناہ طاقت ہے، مگر سچائی کی کمی ہے۔ اس کے پاس رابطے کے لاتعداد وسیلے ہیں، مگر دلوں میں دوریاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ اس کے پاس سہولتیں ہیں، مگر اطمینان کم ہے۔ اس کے پاس آزادی کے نعرے ہیں، مگر ذمہ داری کا احساس کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں اسلام انسان کو توازن دیتا ہے۔ وہ اسے یہ سکھاتا ہے کہ آزادی ہو مگر اخلاق کے ساتھ، ترقی ہو مگر انصاف کے ساتھ، علم ہو مگر حکمت کے ساتھ، اور طاقت ہو مگر جواب دہی کے ساتھ۔
اسلامی اقدار کی خوبصورتی یہ ہے کہ وہ انسان کو زمانے سے الگ نہیں کرتیں بلکہ زمانے کے اندر رہتے ہوئے بہتر انسان بننے کی تربیت دیتی ہیں۔ اسلام عقل کے استعمال کو سراہتا ہے، علم کے حصول کو عبادت کے درجے تک پہنچاتا ہے، تحقیق کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، اور انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ اس لحاظ سے اسلام جدیدیت کا مخالف نہیں، بلکہ ایسی جدیدیت کا حامی ہے جو انسان کی فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ اگر جدید دور سے مراد سائنس، ٹیکنالوجی، مواصلات، تحقیق اور سہولتوں میں ترقی ہے تو اسلام ان سب سے متصادم نہیں۔ البتہ اگر جدید دور سے مراد اخلاقی نسبیت، خاندانی نظام کی تباہی، مادہ پرستی اور بے مقصد آزادی ہے تو اسلام اس پر خاموش نہیں رہ سکتا۔
مسلمان معاشروں کا اصل مسئلہ یہ نہیں کہ اسلام آج کے تقاضوں کا ساتھ نہیں دے سکتا، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اسلام کو اپنی اجتماعی زندگی میں مکمل طور پر نافذ نہیں کیا۔ ہم نماز کو تو اختیار کرتے ہیں مگر معاملات میں سچائی کمزور رہتی ہے۔ ہم مذہبی شناخت کو تو اہم سمجھتے ہیں مگر سماجی انصاف کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہم دین کی بات تو کرتے ہیں مگر اس کی اخلاقی روح کو اپنی زندگیوں میں جگہ نہیں دیتے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہماری ظاہری وابستگی تو باقی رہتی ہے، لیکن اجتماعی کردار متاثر ہوتا ہے۔ جدید دنیا میں اصل ضرورت اسی کردار کی ہے جو دیانت، انصاف، نرمی، امانت اور انسان دوستی پر قائم ہو۔
نوجوان نسل اس بحث کا سب سے اہم حصہ ہے۔ آج کا نوجوان ایک ایسے ماحول میں زندگی گزار رہا ہے جہاں ہر طرف مسابقت ہے، دبا ہے، اشتہارات ہیں، فیشن ہے، مواد کی بھرمار ہے، اور شناخت کے بحران ہیں۔ اس صورتحال میں اگر اسے کوئی مضبوط اخلاقی بنیاد نہ دی جائے تو وہ منتشر ہو سکتا ہے۔ اسلامی اقدار نوجوان کو جڑ بھی دیتی ہیں اور سمت بھی۔ وہ اسے بتاتی ہیں کہ کامیابی صرف کیریئر بنانے کا نام نہیں، بلکہ اچھا انسان بننے کا نام بھی ہے۔ وہ اسے یہ شعور دیتی ہیں کہ عزت صرف شہرت میں نہیں، کردار میں بھی ہوتی ہے؛ اور ترقی صرف تنخواہ یا معیارِ زندگی میں نہیں، بلکہ اخلاقی بلندی میں بھی ہوتی ہے۔
خاندانی نظام کے لیے بھی اسلامی اقدار ناگزیر ہیں۔ جدید دنیا میں خاندان تیزی سے کمزور ہو رہا ہے۔ والدین اور بچوں کے درمیان فاصلہ، میاں بیوی کے درمیان عدم برداشت، بزرگوں کی بے توقیری، اور رشتوں میں مفاد پرستی ایک عام مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ اسلام خاندان کو محض ایک سماجی اکائی نہیں سمجھتا بلکہ اسے تربیت، محبت، قربانی اور سکون کا مرکز قرار دیتا ہے۔ اگر گھر کے اندر اسلامی اخلاق زندہ ہوں تو معاشرہ بھی سنورتا ہے۔ کیونکہ معاشرہ گھروں ہی سے بنتا ہے، اور گھروں کی اصلاح کے بغیر کسی بڑی اجتماعی تبدیلی کا خواب ادھورا رہتا ہے۔
میڈیا اور سوشل میڈیا کے اس دور میں بھی اسلامی اقدار کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔ جھوٹی خبروں، بے بنیاد پروپیگنڈے، کردار کشی، سنسنی، اور اخلاقی بے احتیاطی نے ابلاغ کو ایک خطرناک میدان بنا دیا ہے۔ صحافت اگر سچائی، امانت اور ذمہ داری سے خالی ہو جائے تو وہ اصلاح کے بجائے فساد کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اسلامی تعلیمات میڈیا کے لیے بھی ایک واضح ضابطہ فراہم کرتی ہیں: خبر کی تصدیق، زبان کی پاکیزگی، نیت کی درستگی، اور اثرات کی ذمہ داری۔ یہی اصول جدید صحافت کو معتبر بناتے ہیں۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اسلامی اقدار فرد کو صرف اخلاقی ضابطہ نہیں دیتیں بلکہ اسے اندرونی وقار بھی عطا کرتی ہیں۔ جدید انسان بسا اوقات دوسروں کی نظر میں اچھا دکھنے کے لیے جیتا ہے، مگر اپنی روح کے ساتھ سچا نہیں ہوتا۔ اسلام دکھاوے کے بجائے اخلاص سکھاتا ہے۔ یہ انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اصل کامیابی لوگوں کی داد نہیں، بلکہ اللہ کی رضا ہے۔ یہی احساس انسان کو منافقت سے بچاتا ہے، اس کی نیت کو صاف کرتا ہے، اور اس کے عمل کو مضبوط بناتا ہے۔
معاشی زندگی میں بھی اسلامی اقدار کی حیثیت غیر معمولی ہے۔ جدید معیشت نے بڑے پیمانے پر ترقی تو کی ہے، مگر ساتھ ہی استحصال، سود، دھوکہ، ذخیرہ اندوزی، ناپ تول میں کمی اور مالی ناانصافی بھی پیدا کی ہے۔ اسلام معاشی سرگرمیوں کو جائز، صاف، شفاف اور انسانی احترام کے دائرے میں رکھتا ہے۔ وہ دولت کے انبار لگانے سے زیادہ جائز کمائی، عدل اور سماجی بھلائی پر زور دیتا ہے۔ اگر اس اصول کو اپنایا جائے تو معیشت محض منافع کا کھیل نہیں رہتی بلکہ اجتماعی فلاح کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
درحقیقت اسلامی اقدار اور جدید دور میں کوئی حقیقی تضاد نہیں۔ تضاد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم جدیدیت کو اخلاق سے جدا کر دیں یا دین کو عملی زندگی سے الگ سمجھ لیں۔ اسلام نہ زمانے سے فرار سکھاتا ہے، نہ ترقی سے نفرت۔ وہ انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ زمانے میں رہو، مگر زمانے کے غلام نہ بنو؛ ترقی حاصل کرو، مگر اپنی روح نہ کھو؛ دنیا میں کامیاب ہو، مگر آخرت کو نہ بھولو۔ یہی وہ توازن ہے جس کی آج کے انسان کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
آج کے دور میں سب سے بڑی اصلاح فرد کے اندر سے شروع ہوتی ہے۔ اگر نیت درست ہو، کردار مضبوط ہو، اور اقدار زندہ ہوں تو جدید دور ایک خطرہ نہیں رہتا بلکہ ایک موقع بن جاتا ہے، لیکن یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب انسان کے اندر اخلاقی شعور اور دینی وابستگی موجود ہو۔ اسلامی اقدار اسی شعور کو بیدار کرتی ہیں۔
لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسلامی اقدار کو محض تقریروں، کتابوں اور نعروں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ انہیں اپنی روزمرہ زندگی، تعلیمی اداروں، میڈیا، سیاست، تجارت اور گھریلو نظام میں زندہ کریں۔ اسلام یہی کچھ دیتا ہے۔ اور اگر ہم نے اس حقیقت کو سمجھ لیا تو پھر جدید دنیا میں بھی ہماری شناخت کمزور نہیں پڑے گی، بلکہ اور زیادہ روشن ہو گی۔

متعلقہ مضامین

  • اگر آپ ذہین ہیں تو اس لاکر کا درست کوڈ بتایئے؟
  • راولپنڈی: ہولی فیملی اسپتال میں مبینہ غفلت، نومولود بچی کا انگوٹھا کٹ گیا، مقدمہ درج
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
  • علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق