وزیرخزانہ سے میوچل فنڈ انڈسٹری وفدکی ملاقات ، مستحکم مالیاتی پالیسی تجاویز پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 28th, February 2025 GMT
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) اسلام آباد میں وفاقی وزیر برائے خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب سے عالیہ مبیّد کی قیادت میں جیفریز انویسٹرز کے وفد نے ملاقات کی۔ وفد میں ایچ بی کے انویسٹمنٹ مینجمنٹ کے مسٹر واسیِل نکولوف، بارنگز کے مسٹر خالد سلامی، ایشمور کے مسٹر ژن ژو، فِڈیلٹی کے مسٹر سلمان احمد، جیفریز کے مسٹر خرم شیخ اور کے ٹریڈ سکیورٹیز کے مسٹر محمود علی شاہ بخاری شامل تھے۔ ملاقات میں پاکستان کی مجموعی معاشی صورتحال، سرمایہ کاری کے ماحول اور جاری اقتصادی اصلاحات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد نے وزیر خزانہ کو مئی 2025 میں لندن میں ہونے والے پاکستانی انویسٹرز ڈے میں شرکت کی دعوت دی۔ سینیٹر محمد اورنگزیب نے پاکستان کی معاشی استحکام کی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے حکومت کی ٹیکس، توانائی، سرکاری اداروں اور نجکاری سے متعلق ساختی اصلاحات کے عزم کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ معیشت اب مستحکم ہو چکی ہے اور حکومت مالی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے فعال حکمت عملی اپنا رہی ہے۔ وزیر خزانہ نے ٹیکس اصلاحات پر وفد کو آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہول سیل، ریٹیل اور رئیل اسٹیٹ سیکٹرز کو باضابطہ طور پر ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، زرعی انکم ٹیکس چاروں صوبے میں یکم جولائی 2025 سے نافذ العمل ہوگا۔ وزیر خزانہ نے وفد کو بتایا کہ ہم پانڈا بانڈ مذاکرات مین مصروف ہیں۔ علاوہ ازیں محمد اورنگزیب سے میوچل فنڈز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے وفد نے ملاقات کی۔ وفد کی قیادت آزاد ڈائریکٹر مسٹر آفتاب دیوان نے کی۔ وفد نے پاکستان کی میوچل فنڈ انڈسٹری کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان کی مجموعی بچت کی شرح جی ڈی پی کے 13 فیصد کے برابر ہے، جو کہ بھارت جیسے علاقائی ممالک کی 30 فیصد شرح کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔ ملاقات میں مالیاتی شعبے کو مستحکم کرنے کے لیے پالیسی تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد نے انفراسٹرکچر فنڈز کی ترقی پر زور، کنٹری بیوٹری پنشن سکیم میں اصلاحات کی تجویز پیش کی تاکہ وفاقی سطح پر منظم ریٹائرمنٹ سیونگز کو فروغ دیا جا سکے۔ گورنمنٹ اجارہ سکوک متعارف کرانے کی تجاویزپیش کیں۔ چھوٹے سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے میوچل فنڈ سرمایہ کاری پر ٹیکس کریڈٹ کی بحالی کی تجویز دی۔ انہوں نے پاکستان ہائر ایجوکیشن سیونگز فنڈ کے قیام کی تجویز دی، جو عالمی سطح پر کامیاب تعلیمی سیونگز پلانز کی طرز پر ہوگا اور خاندانوں کو بچوں کی تعلیم کے لیے مالی منصوبہ بندی میں مدد فراہم کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پاکستان کی انہوں نے کے مسٹر کے لیے وفد نے
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔