لاہور ہائیکورٹ کی دورانِ میچ بہترین ٹریفک انتظامات کی تعریف
اشاعت کی تاریخ: 28th, February 2025 GMT
لاہور ہائی کورٹ نے چیمپئنز ٹرافی 2025ء کے میچز کے دوران بہترین ٹریفک انتظامات کی تعریف کی ہے۔
لاہور ہائی کورٹ میں اسموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کے لیے درخواستوں پر سماعت ہوئی۔
عدالت نے آئندہ سماعت پر عدالتی احکامات پر عمل درآمد کی رپورٹ طلب کر لی۔
عدالتِ عالیہ نے ٹریفک وارڈنز کو ہیلتھ الاؤنس فراہمی کا عمل تیز کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ نے ہدایت کی ہے کہ وارڈنز کا سروس اسٹرکچر جلد بنایا جائے۔
عدالت نے شہر کے 18 مقامات پر ٹریفک جام ختم کرنے کے پلان اور واسا سے گندے نالے انڈر گراؤنڈ کرنے کے حکم پر بھی رپورٹ مانگ لی۔
عدالتِ عالیہ نے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت پارکنگ اسٹینڈز بنانے کی ہدایت کر دی۔
دورانِ سماعت پی ایچ اے نے لاہور میں ساڑھے 3 لاکھ درخت لگانے کی رپورٹ عدالت میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ لاہور میں مزید ساڑھے 3 لاکھ درخت بھی لگائے جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
اسلام آباد:ہائیکورٹ نے جاری اشتہار کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) میں نئی بھرتیوں پر عملدرآمد سے روک دیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ اسامیوں کی بھرتی کے لیے جاری کیے گئے اشتہار پر مرکزی درخواست کے حتمی فیصلے تک عملدرآمد معطل رہے گا۔ جسٹس محمد اعظم خان نے یہ احکامات جاری کرتے ہوئے متفرق درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات بھی دور کر دیے۔
حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت درخواست کے میرٹ پر دیے بغیر متفرق درخواست کو منظور کررہی ہے۔ عدالت نے اشتہار پر عملدرآمد روکنے کی متفرق درخواست منظور کرتے ہوئے اسے نمٹا دیا، جبکہ مرکزی کیس کی سماعت کے لیے 22 اگست کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔
واضح رہے کہ اے این ایف کے کانسٹیبل محمد شفیق خان نے اپنے وکیل محمد علی رضا کے ذریعے اسامیوں کے اشتہار کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ درخواست میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ قانون اور ڈائریکٹر جنرل اے این ایف کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ گزشتہ 10 سال سے اے این ایف میں ایک ہی عہدے پر خدمات انجام دے رہا ہے، لیکن اسے کوئی ترقی نہیں دی گئی۔ اس نے بتایا کہ محکمہ کے 665 کانسٹیبلز کی سینیارٹی فہرست میں اس کا نمبر 232 ہے، اس کے باوجود محکمانہ ترقی کا حق نظر انداز کیا گیا۔
درخواست میں کہا گیا کہ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کا اجلاس بلائے بغیر نئی براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار جاری کرنا غیر قانونی ہے۔ مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اے این ایف کے سروس رولز کے تحت پہلے سے موجود ملازمین کی ترقی کا حق ختم کرکے براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار دیا گیا ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ دیگر اداروں سے ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران کی غیر قانونی انٹری روک کر سویلین ملازمین کا سروس اسٹرکچر بحال کیا جائے۔ عدالت اے این ایف کا جاری کردہ حالیہ بھرتیوں کا اشتہار غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کرے اور تمام خالی اسامیوں پر محکمانہ ترقیوں کے لیے ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی فوری تشکیل دینے کا حکم جاری کرے۔