Nawaiwaqt:
2026-06-03@01:09:03 GMT

پی ٹی اے کوفائیو جی کی نیلامی میں مشکلات کا سامنا

اشاعت کی تاریخ: 4th, March 2025 GMT

پی ٹی اے کوفائیو جی کی نیلامی میں مشکلات کا سامنا

 قانونی پیچیدگیوں کے باعث پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کوفائیو جی کی نیلامی میں مشکلات کا سامنا درپیش ہے۔فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی جون2025میں جبکہ سپیکٹرم کی کمرشل لانچنگ2026کی پہلی سہ ماہی میں متوقع ہے، پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ ٹیلی کام مارکیٹ اسسمنٹ مکمل کرلی ہے،ٹیلی کام ریفارمز اور سٹیک ہولڈرز کیساتھ مشاورت جاری ہے۔ نیلامی کا عمل سپیکٹرم کی قیمت اور نیلامی کے ڈیزائن کی سٹیج تک پہنچ چکا ہے،ایڈوائزری کمیٹی ایک ماہ میں پالیسی سفارشات حکومت کو بھیجے گی، سفارشات کے بعد حکومت پالیسی ڈائریکٹو جاری کرے گی، دو ٹیلی کام کمپنیوں کے انضمام میں تاخیر کے باعث نیلامی میں مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ 2600،2100اور1800میگا ہرٹس کے کیسز عدالتوں میں ہیں، 2600میگا ہرٹس بینڈ میں140میگا ہرٹس سپیکٹرم کے کیسز زیر التواء ہیں،1800میگا ہرٹس بینڈ میں 6.

6 میگا ہرٹس سپیکٹرم کا کیس بھی زیر التوا ہے جبکہ2100میگا ہرٹس بینڈ میں10میگا ہرٹس سپیکٹرم کا کیس بھی التوا کا شکار ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا