انٹرا پارٹی انتخابات: پی ٹی آئی کے اندرونی معاملات کون چلا رہا ہے؟ الیکشن کمیشن
اشاعت کی تاریخ: 4th, March 2025 GMT
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کیس کی سماعت کے دوران پارٹی کے اندرونی معاملات چلانے کے حوالے سے سوالات سامنے آ گئے۔
نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کیس کی سماعت ممبر سندھ نثار درانی کی سربراہی میں 3 رکنی کمیشن نے کی جس میں بیرسٹر گوہر، اکبر ایس بابر اور دیگر الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے۔
دورانِ سماعت ممبر کے پی نے استفسار کیا کہ پی ٹی آئی کے اندر کے معاملات کون چلا رہا ہے؟ میڈیا میں سلمان اکرم راجا کا نام آ تا ہے، وہ پارٹی میں کیا ہیں؟ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات متنازع ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے اس موقع پر بتایا کہ ہم صرف انڈور مینجمنٹ کے تحت معاملات چلا رہے ہیں، جب آپ سرٹیفکیٹ دیں گے تو پھر معاملہ حل ہو گا۔
ممبر الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہائیکورٹ سے حکم امتناع ختم کرائیں جس پر بیرسٹر گوہر نے جواب دیا کہ اس کیس کی کارروائی کے حوالے سے کوئی حکم امتناع نہیں۔
ممبر الیکشن کمیشن نے کہا کہ یہ کیس ٹرائل تو ہے نہیں، یہ ممکن نہیں کہ اس پر فیصلہ محفوظ کر کے عدالتی فیصلے کا انتظار کریں، جو دستاویزات آپ نے دی ہیں وہ مکمل نہیں۔
اکبر ایس بابر نے اس موقع پر کہا کہ یہ عوامی اہمیت کا معاملہ ہے، الیکشن کمیشن نے بھی سپریم کورٹ میں انٹرا پارٹی الیکشن کومتنازع قرار دیا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن آج ہی اس پر فیصلہ سنائے۔
بعد ازاں الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کیس کی آئندہ سماعت 8 اپریل تک ملتوی کر دی۔
حکمران جو مرضی کرلیں، ڈیل نہیں کرونگا، عمران خان
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: انٹرا پارٹی انتخابات پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کمیشن نے کیس کی
پڑھیں:
5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
پانچ جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا۔
بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے منگل کی رات مذاکرات ہوئے مگر پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اورحکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔
پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے لیکن پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالف ہے۔