فتنہ الخوارج سمیت دہشت گرد گروہ پاکستان کیخلاف افغان سرزمین سے کارروائیاں کر رہے ہیں، آرمی چیف
اشاعت کی تاریخ: 6th, March 2025 GMT
آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ فتنہ الخوارج سمیت دہشت گرد گروہ پاکستان کے خلاف افغان سرزمین سے کارروائیاں کر رہے ہیں، دہشت گرد حملوں میں غیر ملکی ہتھیاروں کا استعمال ثبوت ہے کہ افغانستان ایسے عناصر کی محفوظ پناہ گاہ بنا ہوا ہے، دشمن عناصر کی ایماء پر کام کرنے والے خوارج اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف جنگ منطقی انجام تک جاری رہے گی۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر نے بنوں کا دورہ کیا، کور کمانڈر پشاور نے استقبال کیا، آرمی چیف کو جاری آپریشنز اور علاقے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے سی ایم ایچ بنوں میں زخمی فوجیوں کی خیریت دریافت کی، آرمی چیف نے فوجیوں کے بلند حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا اور بنوں کینٹ دہشت گردی میں جانیں گنوانے والے شہریوں کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیرنے بنوں میں فوجی جوانوں سے خطاب کیا اور حملہ آوروں کے مذموم عزائم ناکام بنانے میں فوجیوں کے بہادرانہ اقدامات کو سراہا۔
آرمی چیف نے کہا کہ پاک فوج ریاست کی سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے دہشت گردی کے خلاف کردار ادا کرتی رہے گی، واقعہ کے مجرموں کو بہادر فوجیوں نے فوری طور پر بے اثر کر دیا۔
سپہ سالار نے کہا کہ گھناوٴنے حملے کے منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا، شہریوں کو نشانہ بنانے سے اسلام دشمن خوارج کے حقیقی عزائم بے نقاب ہو گئے۔
جنرل عاصم منیر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قومی اتحاد ناگزیر ہے، افواج پاکستان عوام کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے گی۔
آرمی چیف نے کہا کہ فتنہ الخوارج سمیت دہشت گرد گروہ پاکستان کے خلاف افغان سرزمین سے کارروائیاں کر رہے ہیں، دہشت گرد حملوں میں غیر ملکی ہتھیاروں کا استعمال ثبوت ہے کہ افغانستان ایسے عناصر کی محفوظ پناہ گاہ بنا ہوا ہے۔
سپہ سالار نے کہا کہ کسی بھی ادارے کو پاکستان کے امن و استحکام میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: آرمی چیف نے نے کہا کہ کے خلاف
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔