آئی ایم ایف سے قرض کی اگلی قسط کیلئے تکنیکی سطح پر مذاکرات مکمل،دوسرا مرحلہ پیر کو شروع ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 7th, March 2025 GMT
آئی ایم ایف سے قرض کی اگلی قسط کیلئے تکنیکی سطح پر مذاکرات مکمل،دوسرا مرحلہ پیر کو شروع ہوگا WhatsAppFacebookTwitter 0 7 March, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز )پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارہ(آئی ایم ایف)کے جائزہ مشن کے درمیان ایک ارب ڈالر کی اگلی قسط کے لیے جاری تکنیکی سطع کے مذاکرات مکمل ہوگئے ہیں جبکہ پالیسی سطح کے مذاکرات کا دوسرا مرحلہ پیر کو شروع ہوگا۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف مشن کے درمیان مذاکرات کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا ہے تکنیکی سطح کے مزاکرات میں جمعے کو خیبرپختونخوا نمائندہ کی مشن سے ملاقات ہوئی جس میں خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے معاشی اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔خیبرپختونخوا حکومت کے نمائندے نے صوبائی حکومت کی جانب سے زرعی انکم ٹیکس قانون سازی بارے آگاہ کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق صوبائی سطح پر محصولات میں اضافے کے لیے اقدامات پر بریفنگ دی گئی، اس کے علاوہ مذاکرات میں سرکاری افسران کی کارکردگی بڑھانے کے بارے میں امور کا بھی جائزہ لیا گیا اور گورننس میں بہتری کے لیے اقدامات بارے بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
آئی ایم ایف مشن کے ساتھ تکنیکی سطح کے مزاکرات کا پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا ہے اور اب اقتصادی جائزے کے لیے پالیسی سطح پر مذاکرات کا دوسرا مرحلہ پیر کو شروع ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: آئی ایم ایف تکنیکی سطح کے لیے
پڑھیں:
جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔
تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔