راشن کی تقسیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت ٹاؤن و یوسی میں اختیارات منتقل کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہے، جماعت اسلامی عوامی خدمت کے ساتھ ساتھ ظالم حکمرانوں سے عوام کے حقوق بھی حاصل کرے گی۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی 17 سال سے سندھ میں حکومت کررہی ہے لیکن اس نے کراچی کے عوام کے لیے عملاً کچھ نہیں کیا، اہل کراچی کو باعزت ٹرانسپورٹ، معیاری تعلیم، پینے کا صاف پانی، علاج معالجے کی سہولت سمیت بنیادی ضروریات تک میسر نہیں، پیپلز پارٹی اپنے وڈیرہ شاہی اور جاگیردارانہ مائنڈ سیٹ کواندرون سندھ کی طرح کراچی پر بھی مسلط کرنا چاہتی ہے، جماعت اسلامی کے 9 ٹاؤنز نے ڈیڑھ سال کے مختصر وقت میں پارکوں کو بحال کیا، پانی و سیوریج کے مسائل حل کیے اور اب گلیوں میں پیور بلاک کے کام کروائے جارہے ہیں، پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت ٹاؤن و یوسی میں اختیارات منتقل کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہے، جماعت اسلامی عوامی خدمت کے ساتھ ساتھ ظالم حکمرانوں سے عوام کے حقوق بھی حاصل کرے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی ضلع گلبرگ وسطی یوسی 8 کے تحت فیڈرل بی ایریا بلاک 5 میں 1200 مستحق خاندانوں میں راشن کی تقسیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

منعم ظفر خان نے مزید کہا کہ پورے ملک میں الخدمت کا نیٹ ورک موجود ہے، الخدمت ایک این جی او ہے جو کسی بھی ریاست کا متبادل نہیں ہوسکتی لیکن اس کے باوجود کراچی سمیت ملک بھر میں عوامی خدمات انجام دے رہی ہے، علاقہ گلبرگ و حلقہ گلفشاں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں جو گزشتہ 25 سال سے اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں، 12 سو سے زائد ضرورت مندوں میں راشن کی تقسیم کی جارہی ہے، رمضان المبارک برکت و رحمت کا مہینہ ہے، رمضان المبارک غم خواری، صبر و استقامت و ایثار قربانی کا درس دیتا ہے، شہری مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں، نفسا نفسی کے عالم میں الخدمت مفت بازار قابل مبارکباد ہے، الخدمت کے تحت مختلف سرگرمیاں سرا نجام دی جارہی ہیں، کراچی میں الخدمت صحت کی سہولیات، پینے کے صاف پانی و دیگر پروجیکٹ پر کام کررہی ہے، الخدمت پورے پاکستان میں 30 ہزار زائد یتیم بچوں کو کفالت یتامیٰ کے تحت سرپرستی کررہی ہے۔

.

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی پیپلز پارٹی

پڑھیں:

اے سیز کیلئے گاڑیوں کی خریداری: جماعت اسلامی نے فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)جماعت اسلامی نے اسسٹنٹ کمشنرز کے لیے 138 ڈبل کیبن گاڑیوں کی خریداری کے حوالے سے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔

نجی ٹی وی کے مطابق جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق نے سندھ حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ کمشنرز کے لیے 138 ڈبل کیبن گاڑیوں کی خریداری سے متعلق سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں اپیل دائر کردی گئی ۔

درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ 28 مارچ کو سندھ ہائی کورٹ نے گاڑیوں کی خریداری کے خلاف درخواست مسترد کردی ہے، حکومت سندھ کی جانب سے بیوروکریسی کیلیے 138 بڑی گاڑیاں خریدی جارہی ہیں، ان گاڑیوں کی خریداری کے لیے تقریباً 2 ارب روپے کے اخراجات ہوں گے، 3 ستمبر کو اس سلسلے میں نوٹیفکیشن جاری کیا جاچکاہے ۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ گاڑیاں عوام کے ادا کردہ ٹیکسوں کی رقم سے خریدی جائیں گی جبکہ صوبے میں عوام کو صحت اور تعلیم کی بنیادی سہولتیں میسر نہیں ہیں، عوام کے ٹیکس کے پیسے کو عوام کی بہبود کیلیے استعمال کرنا چاہیے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ بیوروکریسی کیلیے ڈبل کیبن گاڑیاں خریدنے سے عوام کا کوئی فائدہ نہیں، اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے یہ عوامی پیسے کا بے جا استعمال ہے۔

درخواست گزار محمد فاروق نے کہا کہ3 ستمبر کے گاڑیاں خریدنے سے متعلق نوٹیفکیشن کو غیر قانونی اور کالعدم قرار دیا جائے، عدالتی فیصلے تک نوٹیفکیشن پر عملدرآمد معطل کیا جائے اور سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔

واضح رہے کہ ستمبر 2024 میں کفایت شعاری مہم کے نام پر حکومتی اخراجات میں کمی کے دعووں کے درمیان یہ بات سامنے آئی تھی کہ حکومت سندھ نے صوبے بھر میں تعینات اپنے اسسٹنٹ کمشنرز کے لیے 138 لگژری ڈبل کیبن گاڑیوں کی خریداری کی منظوری دی تھی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ سروسز، جنرل ایڈمنسٹریشن اور کوآرڈنیشن ڈپارٹمنٹ نے صوبہ بھر میں اسسٹنٹ کمشنر کے لیے 138 ڈبل کیبن (4ایکس4) گاڑیوں کی خریداری کے لیے تقریباً 2 ارب روپے کے فنڈز جاری کرنے کے لیے محکمہ خزانہ کو خط لکھا تھا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے ایک ہفتے کے دورے پر امریکا روانہ ہونے سے قبل اس ہفتے کے شروع میں اسسٹنٹ کمشنرز کے لیے گاڑیوں کی خریداری کی سمری کی منظوری دی تھی۔

گاڑیوں کی خریداری کے لیے بھاری رقم کی منظوری صوبائی حکومت کی جانب سے مالیاتی رکاوٹوں کی وجہ سے مالی سال 2024-2025 کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت کوئی نیا اپ لفٹ پروجیکٹ شروع نہ کرنے کے فیصلے کے پس منظر میں دی گئی تھی۔

بعدازاں سندھ ہائیکورٹ نے جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق کی درخواست پر سندھ حکومت کو گاڑیوں کی خریداری روکنے کا حکم دیا تاہم بعدازاں عدالت نے سندھ حکومت کو افسران کے لیے گاڑیاں خریدنے کی اجازت دے دی تھی جس کے بعد رواں ہفتے ہی محکمہ خزانہ سندھ نے گاڑیوں کی خریداری کے لیے 55 کروڑ 66 لاکھ روپے جاری کردیے تھے۔
مزیدپڑھیں:سونا فی تولہ11 ہزار 7 سو روپے سستا ۔۔۔قیمت کہاں تک جاپہنچی،کنواروں کے لیے خوشی کی خبرآگئی

متعلقہ مضامین

  • جماعت اسلامی کاغزہ سے اظہار یکجہتی اور اسرائیلی مظالم کیخلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان
  • پہلگام میں بدترین دہشتگردانہ حملے کی سخت مذمت کرتے ہیں، جماعت اسلامی ہند
  •  فلسطین سے ملحقہ 23 اسلامی ممالک کے حکمرانوں کو سانپ سونگھ گیا ہے، خواجہ سلیمان صدیقی 
  • اے سیز کیلئے گاڑیوں کی خریداری: جماعت اسلامی نے فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا
  • اسٹیبلشمنٹ فیڈریشن کو ون یونٹ نظام نہ بنائے: لیاقت بلوچ
  • تحریکِ انصاف کا اندرونی انتشار اسٹیبلشمنٹ کی طاقت بن گیا، جماعت اسلامی
  • دلہن کو اپنے جہیز، تحائف پر مالکانہ حقوق حاصل ہیں، سپریم کورٹ
  • ''اسرائیل مردہ باد'' ملین مارچ
  • جے یو آئی، جماعت اسلامی کا فلسطین پر ملک گیر مہم چلانے کا اعلان
  • لبنان: اسرائیلی ڈرون حملے میں جماعت اسلامی کے رہنما شہید