نوشہرہ: وزیراعظم کا کوآرڈینیٹر بننے پر اختیار ولی کےگھر ہوائی فائرنگ کی ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 9th, March 2025 GMT
وزیراعظم کا کوآرڈینیٹر بننے پر نوشہرہ میں اختیار ولی کےگھر ہوائی فائرنگ کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔ویڈیو میں اختیار ولی کے گھرمیں ہوائی فائرنگ ہوتی دیکھی جاسکتی ہے۔ فائرنگ کرنے والے افراد کے پاس بھاری اسلحہ موجود تھا، فائرنگ کا سلسلہ کافی دیر تک جاری رہا۔اس معاملے پرکوآرڈینیٹر وزیراعظم اختیار ولی نے گفتگو کرتے ہوئےکہا کہ میں ذاتی طور پر ہوائی فائرنگ جیسے فعل کے شدید خلاف ہوں، ہمارے یہاں روایت ہے کہ خوشی کا اظہار ہوائی فائرنگ سےکیا جاتا ہے۔اختیار ولی نے کہا کہ مہمانوں کو ہوائی فائرنگ سے روکنا مشکل ہوگیا تھا۔خیال رہےکہ گزشتہ دنوں مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کے رہنما اختیار ولی کو وزیراعظم شہباز شریف کا کوآرڈینیٹر برائے خیبر پختونخوا مقررکیا گیا تھا۔نوٹیفکیشن کے مطابق اختیار ولی کی بطور کوآرڈینیٹر تعیناتی اعزازی بنیادوں پرکی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ہوائی فائرنگ اختیار ولی
پڑھیں:
نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری کردیاگیا
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری کردیاگیا۔
نجی ٹی وی چینل جیونیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عدالتیں میڈیا کی پذیرائی یا عوامی مقبولیت کے کیلئے فیصلے نہیں کرسکتیں ،عدالت کا بنیادی فرض آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہے،قانون سے ہٹ کردائرہ اختیار کو اختیار کرنا یافرض کر لینا عدالتی اصولوں کے منافی ہے،عدالت نہ غیرقانونی دائرہ اختیار استعمال کر سکتی ہے، نہ قانونی دائرہ اختیار سے دستبردار ہو سکتی ہے،دائرہ اختیار کا تعین صرف آئین اور قانون کرتے ہیں۔
سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 175کے تحت ہر عدالت صرف وہی دائرہ اختیار استعمال کرسکتی ہے جو آئین یا قانون نے دیا ہو، آئین اور قانون کی مقررہ حدود سے تجاوز اختیارات سے ناجاز تجاوز کے مترادف ہے،دائرہ اختیار کے بغیر دیا گیا فیصلہ کالعدم اورغیرموثر ہوتا ہے،دائرہ اختیار کے بغیر فیصلے کو رم نان جوڈائس کے اصول کی زد میں آتے ہیں،ہر عدالت اپنے آئینی اور قانونی دائرہ اختیار کی پابند ہے،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے دائرہ ہائے اختیار الگ الگ ہیں،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے اختیارات ایک دوسرے پر حاوی نہیں ،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ ایک دوسرے کے اختیار میں مداخلت بھی نہیں کر سکتے۔
اداکارہ روما مائیکل اداکار شان بیگ سے شادی کے بندھن میں بندھ گئیں
عدالت نے کہاکہ ایک ہی مقدمے پردو متوازی عدالتی دائرہ ہائے اختیار قانون میں قابل قبول نہیں،ایک ہی مقدمے میں ضمانت سپریم کورٹ اوراپیل وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چل سکتی،جہاں قانون اپیل کا حق فراہم نہ کرے وہاں فریق اپنے پسند سے نیا قانونی راستہ اختیار نہیں کرسکتا، قانون فورم شاپنگ یعنی پسند کی عدالت منتخب کرنے کے رجحان کی اجازت نہیں دیتا، صرف فریقین کی خواہش یا رضا مندی سے عدالت دائرہ اختیار استعمال نہیں کرسکتی،عدالت فریقین کی منشاء یا خواہش پر لامحدود دائرہ اختیار استعمال نہیں کر سکتی۔
آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک
مزید :