190 ملین پاؤنڈ کی رقم سے ٹیکنالوجی یونیورسٹی اور دانش اسکولز قائم کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, March 2025 GMT
اسلام آباد:
وفاقی حکومت نے برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کی طرف سے پاکستان کو واپس کیے گئے منی لانڈرنگ کے 190 ملین پاؤنڈزجواس وقت سپریم کورٹ آف پاکستان کی تحویل میں ہیں کو دانش یونیورسٹی آف ایمرجنگ ٹیکنالوجیزکے قیام سمیت تعلیمی مقاصد کیلیے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سابق وزیراعظم عمران خان 54 ارب روپے کے برابر اسی رقم کے القادر ٹرسٹ کی آڑ میں نجی استعمال کی وجہ سے 14 سال قید کی سزا بھگت رہے ہیں۔
وزیراعظم شہبازشریف نے اب اس رقم کو تعلیمی مقاصد کیلیے استعمال کرنے کی اجازت دیدی ہے اور سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی اس پر رضامندی کا اظہارکیا ہے۔
لہذا حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اس رقم سے اسلام آباد میں دانش یونیورسٹی آف ایمرجنگ ٹیکنالوجیز اوردوردراز پسماندہ علاقوں میں دانش سکول قائم کیے جائیں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے دانش سکولوں کے قیام کا منصوبہ 2010ء میں شروع کیا تھا جس کا مقصد پسماندہ ترین علاقوں میں غریب طبقات کو معیاری تعلیم فراہم کرنا تھا۔
18ویں ترمیم کے بعد تعلیم اگرچہ اب صوبوں کا معاملہ ہے تاہم وفاقی حکومت اس رقم سے پسماندہ علاقوں میں دانش سکول قائم کریگی۔دانش سکول میں بچوں کے داخلہ کا معیاریہ ہے کہ ان کے والدین کے تعلق غریب ترین گھرانوں سے ہو جو بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کے دائرہ میں آتے ہوں۔
ان سکولوں میں سیٹیں لڑکوں اور لڑکیوں میں برابرتقسیم کی جاتی ہیں، وزیراعظم شہبازشریف نے ٹیکنالوجی یونیورسٹی اور دانش سکولوں کے قیام کیلیے وفاقی وزیراحسن اقبال کی سربراہی میں ماہرین کی 10رکنی کمیٹی قائم کردی ہے جومجوزہ یونیورسٹی کے پروگرام اور سکولوں کی فہرست تیارکریگی۔
وزیراعظم خود اس گیارہ رکنی کمیٹی کے سربراہ ہونگے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی سربراہی میں یہ کمیٹی یونیورسٹی کے قیام کیلیے مطلوبہ قانون سازی کے علاوہ ڈیڑھ سال کے عرصہ میں اس کی تعمیرکی مانیٹرنگ بھی کریگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: یونیورسٹی ا کے قیام
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔