نجی میڈیکل کالجز کی بھاری فیس وصولی، معاملہ سینیٹ کمیٹی میں زیر بحث
اشاعت کی تاریخ: 11th, March 2025 GMT
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت میں نجی میڈیکل کالجز کی بھاری فیس وصولی کا معاملہ زیر بحث آگیا۔
اسلام آباد میں عامر چشتی کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی صحت کا اجلاس ہوا، جس میں سینیٹر عرفان صدیقی، پلوشہ خان، وزیر مملکت مختار احمد برتھ، صدر پی ایم ڈی سی ڈاکٹر رضوان تاج، رجسٹرار پی ایم ڈی سی شائستہ فیصل اور اسپیشل سیکریٹری صحت نے شرکت کی۔
دوران اجلاس عرفان صدیقی نے کہا کہ 29 جنوری 2024 کو پی ایم ڈی سی نے نجی میڈیکل کالجز کو خط لکھا، جس میں نجی میڈیکل کالجز سے فیس اضافے کا جواز مانگا گیا تھا۔
انہوں نے استفسار کیا کہ کیا نجی میڈیکل کالجز نے فیس اضافے کا جواز دیا تھا؟ کیا نجی میڈیکل کالجز کے جواز سے صدر پی ایم ڈی سی مطمئن تھے؟
اس پر ڈاکٹر رضوان تاج نے کہا کہ جی نجی میڈیکل کالجز نے جواز فراہم کیا تھا، فیس اضافے سے متعلق نجی میڈیکل کالجز کے جواز سے مطمئن نہیں تھا۔
عرفان صدیقی نے کہا کہ 2024ء کی فیس وصول ہوئے ایک سال سے بھی زیادہ عرصہ ہو گیا، سوال تو یہ ہے کہ جب پی ایم ڈی سی جواز سے مطمئن نہیں تو فیسیں کیسے وصول ہو گئیں؟
کمیٹی رکن پلوشہ خان نے کہا کہ اب تو نجی میڈیکل کالجز 2025ء کی فیس بھی وصول کر چکے ،پی ایم ڈی سی کو کوئی نہیں مانتا، نجی میڈیکل کالجز مافیا بن چکے ہیں، ذیلی کمیٹی 2024ء کی وصول کردہ اضافی فیسوں کی واپسی کی7 سفارش کر چکی ہے۔
اس دوران عرفان صدیقی نے کہا کہ ذیلی کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کیوں نہیں ہوا؟ ہم عملدرآمد کرائیں گے، میرے لیے طلبا سے بھاری فیس وصولی معاملہ بہت پریشانی کا باعث ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزارت صحت، قانون اور پی ایم ڈی سی کی کمیٹی نے کتنی سالانہ فیس کی سفارش کی؟ کہاں ساڑھے 12 لاکھ روپے، نجی میڈیکل کالج 30 سے 35 لاکھ وصول کررہے ہیں۔
اسپیشل سیکریٹری صحت نے کہا کہ تقریباً ساڑھے 12 لاکھ روپے سالانہ ایم بی بی ایس کی فیس تجویز کی گئی ہے۔
مختار احمد برتھ نے کہا کہ نجی میڈیکل کالجزکی فیس کے معاملے کو اب جلد حل کرنا ہے، فیس معاملے پر وی سی فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کی سربراہی میں کمیٹی بنادی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈپٹی وزیراعظم کی کمیٹی کا نجی میڈیکل کالجز فیس سے کوئی تعلق نہیں بنتا، نائب وزیراعظم کو معاملہ بجھوایا بھی گیا تھا تو ان کا جواب آگیا ہے۔
وزیر مملکت نے کہا کہ ڈپٹی وزیراعظم کی سربراہی میں کمیٹی میڈیکل ایجوکیشن کو دیکھ رہی تھی، جن کی طرف سے فیس کا کوئی ذکر نہیں کہ کتنی ہو نی چاہیے، اب فیس معاملے کا کوئی انجام ہوناچاہیے، ہر اجلاس میں اس پر بات ہوتی ہے۔
رجسٹرار پی ایم ڈی سی شائستہ فیصل نے کہا کہ 2010ء میں نجی میڈیکل کالجز کی سالانہ فیس 5 لاکھ روپے تھی۔
پلوشہ خان نے کہا کہ نجی میدیکل کالجز اضافی فیس وصولی پر پابندی کے فیصلے کی حکم عدولی کررہے ہیں، کمیٹی کو تو بتایا گیا تھا کہ فیس اسٹرکچر نائب وزیراعظم کو بجھوایا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: نجی میڈیکل کالجز پی ایم ڈی سی عرفان صدیقی فیس وصولی نے کہا کہ فیس وصول کی فیس
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔