کیا دانش تیمور دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں؟ اداکار نے بتادیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, March 2025 GMT
پاکستانی ڈراما انڈسٹری کے معروف اداکار اور میزبان دانش تیمور نے دوسری شادی کے حوالے سے اپنا مؤقف واضح کردیا۔
دانش تیمور حال ہی میں نجی چینل کی خصوصی رمضان ٹرانسمیشن میں سابق نیوز اینکر اور ٹیلی ویژن ہوسٹ رابعہ انعم کے ساتھ میزبانی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
اس ٹرانسمیشن کے دوران ایک دلچسپ ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں رابعہ انعم نے دانش تیمور کے ایک مشروب کے نام پر طنزیہ ردعمل دیا۔
دانش نے ایک مشروب کا نام ’شربتِ لوو بائے ڈی ٹی‘ تجویز کیا، جس پر رابعہ نے مزاحیہ انداز میں پوچھا کہ یہ کس محبت کی بات کر رہے ہیں؟ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وہ کئی بار دانش کو کچھ علماء سے دوسری شادی کے بارے میں مشورہ لیتے دیکھ چکی ہیں۔
رابعہ کی اس بات پر دانش تیمور نے فوری طور پر ردعمل دیتے ہوئے کہا، ’’میں اپنی ایک شادی سے خوش ہوں اور دوسری شادی کے بارے میں سوچ بھی نہیں رہا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ وہ علماء کو بھی گواہ بناتے ہیں کہ وہ بریک کے دوران صرف افطاری کے کھانے پر ہی بات کرتے ہیں۔
دانش تیمور کا یہ واضح مؤقف سامعین کےلیے ایک دلچسپ موڑ ثابت ہوا۔ ان کی یہ بات نہ صرف ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں تجسس رکھنے والوں کے لیے اطمینان کا باعث بنی، بلکہ اس نے شوبز کے حلقے میں بھی ایک مزاحیہ بحث کو جنم دیا۔
دانش تیمور اور رابعہ انعم کی یہ باہمی چھیڑ چھاڑ اور مزاحیہ گفتگو نے ناظرین کو خوب محظوظ کیا۔ اس کے ساتھ ہی دانش کا اپنی شادی سے خوش ہونے کا اعلان ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں پائے جانے والے قیاس آرائیوں پر بھی پانی پھیر گیا۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: کے بارے میں دانش تیمور
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :