پی آئی اے پروازوں کی بحالی کیلئے برطانوی ائیرسیفٹی کمیٹی کا اجلاس 20 مارچ کو ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 12th, March 2025 GMT
عائد پابندی ہٹنے کی صورت پی آئی اے نے فوری طور پر برطانیہ کیلئے فلائٹ آپریشن شروع کرنے کی تیاری کر رکھی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پی آئی اے کی برطانیہ کیلئے پروازوں کی بحالی کیلئے برطانوی ائیر سیفٹی کمیٹی کا اہم اجلاس 20 مارچ کو ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق برطانوی ائیر سیفٹی کمیٹی پی آئی اے سمیت تمام پاکستانی ایئرلائنز پر عائد پابندی ہٹانے پر غور کرے گی۔ پی آئی اے پر عائد پابندی ہٹنے کی صورت پی آئی اے نے فوری طور پر برطانیہ کیلئے فلائٹ آپریشن شروع کرنے کی تیاری کر رکھی ہے، پی آئی اے انتظامیہ نے لندن، مانچسٹر اور برمنگھم کیلئے فلائٹ آپریشن کی تیاری کی ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ جولائی 2020ء میں پائلٹس کے مشکوک لائسنس کا معاملہ سامنے آنے پر برطانیہ سمیت یورپ نے پی آئی اے کی پروازوں پر پابندی عائد کی تھی، یورپ میں پروازیں بحال ہو چکیں، اب برطانیہ بحال کرنے جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پی آئی اے
پڑھیں:
دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔
سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔