پشاور(نیوزڈیسک)عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ایمل ولی خان نے خبردار کیا ہے کہ پختونخوا اور بلوچستان کی سرزمین پر چین اور امریکہ کی نئی عالمی جنگ کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک بار پھر قوم اور ریاست کو متنبہ کر رہے ہیں کہ کھلاڑی بدل چکے ہیں اور ایک اور پرائی جنگ میں ہمارے بچوں کو جھونکنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

پشاور میں خطاب کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ ماضی میں بھی جب امریکہ اور روس کے درمیان جنگ جاری تھی، تو ہم نے واضح کیا تھا کہ یہ جہاد نہیں بلکہ فساد ہے۔ آج وہی مذہبی رہنما جو کل تک ہمارے بچوں کو جنت کے نام پر جنگ میں دھکیل رہے تھے، اب اسے فساد قرار دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تشدد کسی بھی مسئلے کا حل نہیں بلکہ یہ معاملات کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ عوام کی اصل طاقت سیاست میں ہے اور ان کا ہتھیار عدم تشدد کا پرچم بلند رکھنا ہے۔ایمل ولی خان نے کہا کہ ملک کے اندرونی مسائل کے مستقل حل کے لیے باہمی اعتماد اور مذاکرات ناگزیر ہیں، علیحدگی پسند تحریکوں کا حل صرف سیاسی بنیادوں پر نکالا جا سکتا ہے اور اس کے لیے سنجیدگی دکھانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ امن کو ہر حال میں ترجیح دینا ہوگی کیونکہ آگے بڑھنے کا واحد راستہ یہی ہے۔ پالیسیوں میں شفافیت لائی جائے اور انہیں پارلیمنٹ میں زیر بحث لا کر عوام کو اعتماد میں لیا جائے۔ایمل ولی خان نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے اور اس حوالے سے کسی قسم کا ابہام نہیں ہونا چاہیے۔

ریاست کو عوام کے ساتھ بیٹھ کر ان کے تحفظات دور کرنے ہوں گے، ان کے حقوق تسلیم کرنے ہوں گے اور انہیں پاکستان کو تسلیم کرنا ہوگا۔انہوں نے واضح کیا کہ اے این پی کسی بھی صورت میں تشدد کی حمایت نہیں کر سکتی اور ہم امن کے لیے اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔
سال کا پہلا مکمل چاند گرہن کل بروز جمعۃ المبارک کو ہو گا، پاکستان میں دیکھنا ممکن نہیں ہوگا، محکمہ موسمیات

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: ایمل ولی خان نے نے کہا کہ انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان

برلن: جرمنی نے بحیرۂ احمر میں تعینات اپنے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ممکنہ مشن کی فوری ضرورت باقی نہیں رہی۔

جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق واپس بلائے جانے والے جہازوں میں ’فلڈا‘ نامی مائن ہنٹر اور ’موزیل‘ نامی سپورٹ شپ شامل ہیں۔ دونوں جہاز جون میں نہرِ سویز کے راستے بحیرۂ احمر پہنچے تھے اور اس وقت جبوتی میں تعینات تھے۔

ان جہازوں کے ساتھ تقریباً 140 اہلکار بھی موجود تھے، جن میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے غوطہ خور، خودکار زیرِ آب نظام کے ماہرین اور سکیورٹی ٹیمیں شامل تھیں۔

جرمن حکام کے مطابق ان بحری جہازوں کو اس خدشے کے پیش نظر تیار رکھا گیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھاتا ہے تو انہیں فوری کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی مشن کا انحصار سیاسی اور سفارتی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایران اور عمان سمیت علاقائی ممالک کی رضامندی پر ہوگا۔

وزارتِ دفاع نے کہا کہ یہ بحری مشن کسی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں تھا بلکہ یورپی ممالک کی جانب سے عالمی بحری راستوں پر آزادانہ جہاز رانی کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ تھا۔

اگرچہ یہ دونوں جہاز واپس بلائے جا رہے ہیں، تاہم جرمنی بدستور یورپی یونین کے آپریشن اسپائیڈیز میں شامل رہے گا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو یمن کے حوثی گروپ کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔

اس کے علاوہ جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان کے ساحل پر اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفل میں اپنی بحری شمولیت بھی 2026 کے اختتام تک برقرار رکھے گا۔

جرمن حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فوری خطرات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں عالمی جہاز رانی ایک مرتبہ پھر متاثر ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دہشتگردی میں بھارت کا کردار واضح، بلوچستان کے عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،وزیراعظم شہباز شریف
  • غزہ میں اسرائیلی بمباری سے مسجد شہید، قریبی مکانات بھی تباہ
  • افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے، اسحاق ڈار
  • ایران کے جزیرہ قشم میں ایک جنگی طیارہ گرنے کی اطلاعات
  •  بلوچستان کے عوام کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا:شہباز شریف
  • افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے: اسحاق ڈار
  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران