کراچی:

اینٹی وہیکل لفٹنگ سیل پولیس نے گاڑی چوری کرنے میں ملوث پولیس اہلکار سمیت 3 سگے بھائیوں کو چوتھے ساتھی سمیت گرفتار کر کے کار برآمد کرلی، ملزمان میں شامل پولیس اہلکار کا ایک بھائی چوری کی جانے والی کار کے مالک کا ڈرائیورتھا اور اس نے گاڑی کا ڈپلیکٹ ریموٹ بنوا رکھا تھا۔

تفصیلات کے مطابق نارتھ کراچی کے علاقے سیکٹر الیون بی سے نامعلوم ملزمان گھر کے باہر کھڑی 2025 ماڈل کی ہنڈا سٹی گاڑی  چوری کر کے فرار ہوگئے جس کا مقدمہ نمبر 133 سال 2025 سرسید ٹاؤن پولیس نے درج کر کے اے وی ایل سی نیو کراچی ڈویژن کے انچارج سب انسپکٹر قیصر آفریدی کے سپرد کر دیا جس کے بعد پولیس نے گاڑی کی چوری کے حوالے تحقیقات کرتے ہوئے گاڑی کا سراغ لگا کر اسے برآمد کرلیا۔

قیصر آفریدی نے بتایا کہ گاڑی کی چوری میں ملوث گاڑی کے مالک کے ڈرائیور اعظم کو اس کے پولیس اہلکار بھائی فیضان اور احسن سمیت چوتھے ساتھی آصف رضی کے ساتھ گرفتار کرلیا جبکہ ڈرائیور اعظم نے کار کا ڈپلیکیٹ ریموٹ گلستان جوہر کے علاقے سے 7 ہزار روپے میں بنوایا تھا اور کار چوری کرنے بعد سرجانی ٹاؤن کے علاقے میں قائم پیٹرول پمپ کے قریب ٹاپ کور ڈال کر پارک کی تھی، ملزمان گاڑی فروخت کرنے کے لیے بلوچستان بھی گئے تاہم قیمت اچھی نہ ملنے پر وہ کار فروخت نہ کر سکے۔

انھوں نے بتایا کہ ملزمان گاڑی فروخت کرنے ملتان  لے جا رہے تھے کہ پولیس پارٹی نے خفیہ ذرائع سے ملنے والی اطلاع پر اندرون سندھ میں چھاپہ مار کر ملزمان کو گرفتار کر کے کار برآمد کرلی۔

قیصر آفریدی نے بتایا کہ گرفتار ملزمان میں شامل پولیس اہلکار فیضان سیکیورٹی ٹو میں تعینات ہے جبکہ وہ اورنگی ٹاؤن کے رہائشی ہیں اور انھوں ںے ابتدائی تفتیش میں گاڑی چوری کرنے کی وجہ کو مالی تنگدستی اور قرض کی رقم ادا کرنا قرار دیا ہے جس کی پولیس مزید تحقیقات کر رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پولیس اہلکار چوری کر

پڑھیں:

میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

(جاری ہے)

تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار