سپیشل اولمپکس ورلڈ ونٹر گیمز، پاکستان نے گولڈ سمیت 4 میڈل جیت لئے
اشاعت کی تاریخ: 14th, March 2025 GMT
لاہور (سپورٹس رپورٹر) سپیشل اولمپکس ورلڈ ونٹر گیمز میں پاکستانی اتھلیٹس نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک گولڈ، ایک سلور اور 2 کانسی کے تمغے جیت لئے۔ اٹلی میں ہونے والے کراس کنٹری سکینگ مقابلے میں پاکستان نے گولڈ میڈل جیت لیا۔ پاکستان کے منیب الرحمٰن نے کراس کنٹری سکینگ ایونٹ میں مردوں کی 50 میٹر ریس میں پاکستان کیلئے پہلا گولڈ میڈل جیت لیا۔ کراس کنٹری سکینگ کے ویمنز ایونٹ میں پاکستان کی روبینہ قربان نے خواتین کی 50 میٹر ریس میں دوسری پوزیشن حاصل کرتے ہوئے سلور میڈل اپنے نام کیا۔ ورلڈ ونٹرگیمز میں سنو شوئنگ 200 میٹر کی ریس میں پاکستان کے صبور احمد اور علی رضا نے کانسی کا تمغہ جیت لیا جبکہ مناہل نے چوتھی، تبسم ناصر اور شاہ گالون پانچویں، آفاق خان چھٹی اور اقراء اکرم نے ساتویں پوزیشن حاصل کی۔ گولڈ میڈلسٹ منیب الرحمٰن کا کہنا تھا کہ پہلی بار ورلڈ ونٹر گیمز میں حصہ لیا ہے جس کیلئے پچھلے 7 سال سے تیاری کر رہا تھا۔ میرے کوچز شمائلہ ارم اور محمد سلیم نے میری ٹریننگ پر بھرپور توجہ دی، میری خواہش ہے کہ آنے والے انٹرنیشنل ایونٹس میں پاکستان کے لیے مزید میڈلز جیت سکوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔