حماس غزہ مذاکرات پر بہت برا جوا کھیل رہی ہے. وائٹ ہاﺅس
اشاعت کی تاریخ: 15th, March 2025 GMT
واشنگٹن(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔15 مارچ ۔2025 )وائٹ ہاﺅس نے حماس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ غزہ میں جنگ بندی میں توسیع کے بدلے ایک امریکی نژاد اسرائیلی یرغمالی کی رہائی کے معاہدے پر ناقابلِ عمل مطالبات کر رہا ہے. امریکی نشریاتی ا دارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی سٹیو وٹکوف اور امریکی قومی سلامتی کونسل کے دفتر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حماس بہت برا جوا کھیل رہی ہے یہ سمجھ کر کہ وقت اس کے ساتھ ہے ایسا نہیں ہے .
(جاری ہے)
بیان میں کہا گیا ہے کہ حماس ڈیڈلائن سے بخوبی واقف ہے اور اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اگر یہ ڈیڈ لائن گزر گئی تو ہم اس کے مطابق جواب دیں گے بیان کے مطابق صدر ٹرمپ نے پہلے ہی واضح کیا تھا کہ حماس کو یرغمالیوں کو آزاد نہ کرنے کی سخت قیمت ادا کرنا پڑے گی فلسطینی عسکریت پسندوں اور اسرائیل کی جانب سے غزہ میں بالواسطہ جنگ بندی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے بعد حماس نے کہا تھا کہ وہ ایک امریکی نژاد اسرائیلی یرغمالی اور چار دیگر افراد کی باقیات کو واپس کرنے کے لیے تیار ہے. صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی سٹیو وٹکوف نے بدھ کو قطر میں تجویز پیش کی تھی کہ اگر حماس فلسطینی قیدیوں کے بدلے زندہ یرغمالیوں کو رہا کر دے تو جنگ بندی کے پہلے مرحلے کو اپریل کے وسط تک بڑھایا جا سکتا ہے بیان میں کہا گیا ہے کہ حماس کو بتایا گیا تھا کہ اس تجویز پر جلد عملدرآمد کرنا ہوگا اور اس دوہری شہریت رکھنے والے امریکی نژاد اسرائیلی یرغمالی ایڈن الیگزینڈر کو فوری طور پر رہا کرنا ہوگا. بیان کے مطابق بدقسمتی سے حماس نے عوامی سطح پر لچک کا مظاہرہ کرنے کا دعوی کیا ہے جبکہ بند دروازوں کے پیچھے ایسے مطالبات کیے ہیں جو مستقل جنگ بندی کے بغیر مکمل طور پر ناقابلِ عمل ہیں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے جب پوچھا گیا کہ کیا امریکہ اپنے یرغمالیوں کی رہائی کو ترجیح دے رہا ہے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ ہمیں تمام یرغمالیوں کی پرواہ ہے. انہوں نے کینیڈا میں گروپ آف سیون کے مذاکرات کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ ہم اس طرح کام کر رہے ہیں کہ یہ ایک عام تبادلہ ہے، یہ ایک عام چیز ہے ان سب کو رہا کیا جانا چاہیے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا مزید کہنا تھا کہ میں اس پر تبصرہ نہیں کروں گا کہ ہم کیا قبول کریں گے اور کیا نہیں مانیں گے اس سے ہٹ کر پوری دنیا کو یہ کہنا جاری رکھنا چاہیے کہ حماس نے جو کیا ہے وہ اشتعال انگیز ہے.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کے مطابق کہ حماس تھا کہ
پڑھیں:
امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔
ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز