میو ہسپتال میں انجکشن کے ری ایکشن میں سنگین بے ضابطگیوں پر پردہ ڈال دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, March 2025 GMT
زاہد چوہدری:میو ہسپتال میں انجکشن سیفٹریکزون کے استعمال کے دوران ہونے والی سنگین بے ضابطگیوں پر پردہ ڈالنے کا انکشاف ہوا ہے۔ محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ نے 40 لاکھ سیفٹریکزون انجکشن خریدے تاہم ان کے ساتھ پانی کی شیشی 10 ملی لیٹر کی بجائے صرف 5 ملی لیٹر کی خریدی گئی۔
ذرائع کے مطابق انجکشن سیفٹریکزون کے ساتھ جراثیم سے پاک پانی سٹینڈرڈ کے مطابق نہیں خریدا گیا تھا۔ اس معاملے کی تحقیق میں مزید انکشاف ہوا کہ کم مقدار میں پانی کی خریداری سے دوا ساز ادارے کو کروڑوں روپے کا فائدہ پہنچایا گیا۔
اسلاموفوبیا عالمی امن، بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے ایک خطرہ ہے: مریم نواز
انجکشن سیفٹریکزون کے ساتھ 5 ملی لیٹر پانی کی خریداری کی اجازت دینے والے افراد کی نشاندہی نہیں کی گئی اور یہ معاملہ دبا دیا گیا۔ پانی کی شیشی مطلوبہ معیار کی حامل نہ ہونے کی وجہ سے انجکشن کے استعمال سے ہونے والے اثرات خطرناک ثابت ہوئے۔
محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ نے تحقیقات روک کر اصل ذمہ داران کو بچانے لیا
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پانی کی
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔