آئی جی پنجاب نے 57 افسران کے تقرر و تبادلے کردیے
اشاعت کی تاریخ: 15th, March 2025 GMT
سٹی 42 : آئی جی پنجاب نے ترقی پانے والے ایس پیز سمیت 57 افسران کے تقرر و تبادلے کردیے۔
ایس پی منصور الحسن ملک کو سنئیر ٹریفک افسر لاہور تعینات کردیا گیا, ذوالفقار علی کو ایس پی سیف سٹیز اتھارٹی تعینات کردیا گیا۔ اس کےعلاوہ شاہد رشید کو کو ایڈیشنل ایس پی سٹی ڈویژن گوجرانوالہ، ساجد محمود ایس پی انویسٹی گیشن چکوال، اور یوسف ہارون کو ایس پی بہاولپور تعینات کر دیا گیا ۔
اسلاموفوبیا عالمی امن، بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے ایک خطرہ ہے: مریم نواز
فواد احمد ایس پی آپریشنز ساہیوال، محمد منیر ایس پی انویسٹی گیشن بھکر ، شفقت ندیم ایڈیشنل ایس پی ڈی جی خان ریجن تعینات کردیا گیا، محمد کاشف عبداللہ ایس پی آپریشنز بہاولپور ریجن، رمیض احمد ایس پی سپیشل برانچ ساہیوال، علی اختر ڈپٹی ڈائریکٹر سی ٹی ڈی ہیڈ کوارٹر پنجاب، شاہد صدیق ایس پی آپریشنز اٹک ، عامر مشتاق کو ایس پی آپریشنز سرگودھا ریجن تعینات کردیا گیا۔ اس کے علاوہ جان محمد ایس پی آپریشنز ڈی جی خان ، محمد خان ایڈیشنل ایس پی اینٹی رائٹ لاہور، محمد عرفان الحق ایس پی آپریشنز جھنگ، بابر ممتاز ایس پی ہیڈکوارٹر روالپنڈی، سعید احمد آیڈیشنل ایس پی رحیم یارخان، ناصر جاوید رانا ایڈیشنل ایس پی لائلپور ٹاؤن فیصل آباد ، رحمن قادر ایس پی انویسٹی گیشن خانیوال، منصور الحسن ایس پی ٹریفک لائسنسنگ لاہور ، اختر علی ایس پی انویسٹی گیشن ساہیوال، عاطف عمران ایس پی آر او سی ٹی ڈی ساہیوال ریجن، محمد سلیم ایس پی انویسٹی گیشن چنیوٹ، فیاض احمد ایس پی انویسٹی گیشن بہاولنگر، جمشید علی کو ایس پی انویسٹی گیشن بہاولپور تعینات کردیا گیا ۔
بانی پی ٹی آئی کی 9 مئی کے مقدمات میں ضمانت کا معاملہ، سماعت 18 مارچ کو ہوگی
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ایس پی انویسٹی گیشن تعینات کردیا گیا ایڈیشنل ایس پی ایس پی آپریشنز کو ایس پی
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ کا این سی سی آئی اے فیز 3 کے گریڈ 16 تا 18 کے افسران کو بڑا ریلیف
اسلام آباد ہائی کورٹ نے این سی سی آئی اے فیز 3 کے گریڈ 16 تا 18 کے افسران کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے درخواست گزار افسران کے سرکاری فرائض میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ ڈالنے سے روک دیا۔
عدالت نے این سی سی آئی اے ملازمین کے خلاف کسی بھی تادیبی کارروائی سے روکنے کا حکمِ امتناع بھی برقرار رکھا۔
جسٹس محمد اعظم خان نے متاثرہ افسران کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی اور این سی سی آئی اے حکام کو چار روز میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت تک جواب جمع نہ کرایا گیا تو عدالت رِٹ پٹیشن پر فیصلہ کرنے کے ساتھ توہینِ عدالت کی کارروائی بھی شروع کر سکتی ہے۔
دورانِ سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ اتنے پڑھے لکھے اور تجربہ کار افراد کو کام سے روکنا زیادتی ہے۔ درخواست گزاروں کی جانب سے صدر سپریم کورٹ بار ہارون رشید اور منظور احمد ججہ ایڈووکیٹ پیش ہوئے، جبکہ عدالت نے کیس کی سماعت 30 جولائی تک ملتوی کر دی۔