کمانڈر بحرین نیشنل گارڈ کی سربراہ پاک بحریہ ایڈمرل نوید اشرف سے نیول ہیڈکوارٹرز میں ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 15th, March 2025 GMT
راولپنڈی ( ڈیلی پاکستان آن لائن )کمانڈر بحرین نیشنل گارڈ جنرل شیخ محمد بن عیسی بن سلمان الخلیفہ نے سربراہ پاک بحریہ ایڈمرل نوید اشرف سے نیول ہیڈکوارٹرز میں ملاقات کی ۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور دو طرفہ تعاون پر تبادلۂ خیال کیا گیا ۔نیول چیف نے ریجنل میری ٹائم سیکیورٹی پٹرولز کے ذریعے خطے میں امن و سلامتی کے لیے پاک بحریہ کے اقدامات پر روشنی ڈالی۔کمانڈر بحرین نیشنل گارڈ نے خطے میں بحری سیکیورٹی اور استحکام کے حوالے سے پاک بحریہ کی کاوشوں کو سراہا۔
چینی فوجی طیارہ حادثے کا شکار، پائلٹ محفوظ
آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان اور بحرین کے درمیان دفاعی تعلقات کے دائرہ کار کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ کمانڈر بحرین نیشنل گارڈ کے حالیہ دورے سے دونوں ممالک بالخصوص مسلح افواج کے مابین تعلقات کو مزید فروغ ملے گا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کمانڈر بحرین نیشنل گارڈ پاک بحریہ
پڑھیں:
ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ
تہران / منامہ: ایران کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایمیزون کے ایک ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی امریکا کے خلاف جاری جوابی اقدامات کا حصہ ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ حملے کا ہدف امریکی کمپنی ایمیزون کی وہ ڈیٹا تنصیب تھی جو ان کے بقول امریکی فوج کو معلوماتی معاونت فراہم کرنے میں کردار ادا کر رہی تھی۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ مذکورہ ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا تاہم ایرانی حکام نے اس دعوے کے حق میں فوری طور پر کوئی شواہد یا مزید تفصیلات پیش نہیں کیں۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی کمپنی ایمیزون، بحرین کی حکومت یا امریکی حکام کی جانب سے ایران کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے یا اس کے ممکنہ نقصانات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایران نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں وہ تمام فوجی اڈے یا تنصیبات جو امریکا ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرتا ہے، ایران کی نظر میں جوابی حملوں کے لیے جائز ہدف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران کے دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ پہلی بار ہوگا کہ کسی بڑی عالمی ٹیکنالوجی کمپنی کی تنصیب کو ایران نے براہِ راست اپنی فوجی کارروائی کا ہدف قرار دیا ہے۔ تاہم اس معاملے کی آزادانہ تصدیق کا انتظار کیا جا رہا ہے۔