UrduPoint:
2026-07-24@13:33:15 GMT

نیشنل ہائی وے اتھارٹی کا خسارہ 318 ارب روپے سے تجاوز کرگیا

اشاعت کی تاریخ: 17th, March 2025 GMT

نیشنل ہائی وے اتھارٹی کا خسارہ 318 ارب روپے سے تجاوز کرگیا

اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔17 مارچ ۔2025 )مالی سال 25-2024 میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کا خالص خسارہ 318 ارب روپے سے تجاوز کرنے کے بعد اتھارٹی کا مجموعی خسارہ اور قرضے بالترتیب 18 کھرب 20 ارب اور 31 کھرب روپے سے تجاوز کر گئے ہیں جبکہ اس کی سالانہ آمدن صرف 54 ارب 15 کروڑ روپے ہے.

رپورٹ کے مطابق این ایچ اے کے کل اثاثوں کی مالیت 58 کھرب روپے ہے جو پچھلے 2 سال سے کم ہورہی ہے مالی سال 2022 میں 59 کھرب روپے اور مالی سال 2023 میں 58 کھرب 40 ارب روپے تھی قومی اسمبلی میں ایک تحریری بیان میں وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے مالی سال 2024 کے لیے این ایچ اے کا خالص خسارہ 318.

(جاری ہے)

03 ارب روپے بتایا جو ایک سال قبل کے 413 ارب روپے کے مقابلے میں 23 فیصد کم ہے لیکن مالی سال 2022 کے خسارے سے تقریباً دوگنا ہے.

وفاقی وزیر نے نشاندہی کی کہ وفاقی حکومت این ایچ اے کو سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے ذریعے ایک مخصوص مارک اپ ریٹ پر نقد ترقیاتی قرضے کی شکل میں سالانہ ترقیاتی فنڈز فراہم کر رہی ہے وفاقی وزیر نے کہا کہ خالص خسارہ غیر نقد اخراجات کے اثرات کی عکاسی کرتا ہے جیسا کہ پی ایس ڈی پی اور غیر ملکی قرضوں پر مالی اخراجات، غیر ملکی قرضوں پر زر مبادلہ کے نقصانات اور قدر میں کمی شامل ہے انہوں نے دعویٰ کیاکہ این ایچ اے کو حقیقی معنوں میں مالی نقصان نہیں اٹھانا پڑ رہا ہے کیونکہ یہ عوامل نقد رقم کے حقیقی اخراج کے بجائے اکاﺅنٹنگ ایڈجسٹمنٹ ہیں.

دوسری جانب وزارت خزانہ کے سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ (سی ایم یو) نے نشاندہی کی ہے کہ این ایچ اے کو اہم مالی مسائل کا سامنا ہے جس کی نشاندہی قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ اور پیچیدہ اکاﺅنٹنگ کے مسائل سے ہوتی ہے انہوں نے کہا کہ اس وقت این ایچ اے کے پاس مجموعی طور پر 31 کھرب روپے کے واجب الادا قرضے ہیں جن میں سالانہ 300 ارب روپے کی شرح سے اضافہ ہورہا ہے قرضوں کا یہ پورٹ فولیو 98 ارب روپے کا سود پیدا کرتا ہے جو سالانہ 150 ارب روپے سے زائد ہونے کی توقع ہے جس سے حکومت پاکستان کے لیے کریڈٹ رسک پیدا ہوگا جو ان قرضوں کی ضمانت دیتی ہے.

وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) کے معاہدوں کے لیے خودمختار گارنٹی کی موجودگی سے مزید مالی دباﺅ میں اضافہ ہوتا ہے جس سے حکومت کے کریڈٹ رسک میں اضافہ ہوتا ہے رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ این ایچ اے کا قرضوں کی ادائیگی کے لیے حکومتی امداد پر انحصار اور اس کی محدود آمدنی پیدا کرنے کی صلاحیتوں کی وجہ سے حکومت کے مالی استحکام پر دباﺅ پڑتا ہے خاص طور پر اگر قرضوں کی عدم ادائیگی یا لیکویڈیٹی کا بحران پیدا ہوتا ہے بیلنس شیٹ پر این ایچ اے کے کل اثاثے 58 کھرب 89 ارب روپے ہیں جن پر 29 کھرب کے واجبات روپے ہیں جو اعلیٰ سطح کے فوائد کی عکاسی کرتا ہے تاہم اس کی کل آمدنی صرف 74.007 ارب روپے ہے جبکہ اخراجات 242.57 ارب روپے ہیں جو آپریشنل خسارے کی نشاندہی کرنے کے علاوہ حکومتی فنڈنگ پر اس کے انحصار کو مزید بڑھاتے ہیں.

رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ این ایچ اے کو اپنے وسیع بنیادی ڈھانچے کے اثاثوں کی دوبارہ تشخیص کی وجہ سے 52 کھرب روپے سے زیادہ کی قدر میں کمی کے اخراجات کا سامنا ہے وزارت نے این ایچ اے کی مالی پریشانیوں کو تین بڑے خطرے والے علاقوں میں تقسیم کیا ہے جن میں کریڈٹ رسک، مارکیٹ رسک، اور آپریشنل رسک شامل ہے وزارت کا کہنا ہے کہ اس کا کریڈٹ رسک قرض اور سود کی ذمہ داریوں میں اضافہ کر رہا ہے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ این ایچ اے کا 31 کھرب روپے کا قرضہ اور بڑھتی ہوئی سالانہ سود کی ذمہ داری 150 ارب روپے سے تجاوز کرنے کا امکان ہے جس سے حکومت کو کریڈٹ رسک کا سامنا ہے.

وزارت نے کہا کہ سالانہ 300 ارب روپے کے قرضوں میں اضافے کے ساتھ اتھارٹی کا حکومت کے حمایت یافتہ قرضوں اور خودمختار گارنٹی پر انحصار اہم مالی دباﺅ میں اضافہ کرتا ہے مارکیٹ رسک کے حوالے سے وزارت خزانہ نے کہا کہ این ایچ اے کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبے افراط زر اور سیمنٹ، اسٹیل اور ایندھن جیسے تعمیراتی مواد کی بڑھتی ہوئی لاگت کی وجہ سے خطرے سے دوچار ہیں چونکہ ان اخراجات میں اتار چڑھاﺅ ہوتا ہے طویل مدتی منصوبوں سے وابستہ اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے خاص طور پر جب افراط زر کی ایڈجسٹمنٹ منصوبے کے بجٹ یا آمدنی کے ماڈل میں ظاہر نہیں ہوتی.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے روپے سے تجاوز ارب روپے سے کریڈٹ رسک کھرب روپے میں اضافہ نے کہا کہ سے حکومت مالی سال کرتا ہے ہوتا ہے کے لیے

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • پنجاب ایجوکیشن انیشیٹوز مینجمنٹ اتھارٹی میں ملازمتوں کا اعلان، درخواست دینے کا طریقہ کار جانیے
  • سرکاری ملازمتوں کا شاندار موقع! ماہانہ تنخواہ 1 لاکھ سے 7 لاکھ 50 ہزار روپے تک
  • برطانوی ہائی کمیشن میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کے آغاز کی تقریب
  • سائوتھ ایئر کا نجی ایئر فیلڈز پر کمرشل پروازوں کا اجازت نامہ منسوخ
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • موبائل سم صار فین ہوشیار ، پی ٹی اے کا اہم انتباہ جار ی
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ