پی ٹی آئی ختم کرنے کے چکر میں ملک کو داؤ پر لگا دیا، وزیراعلیٰ گنڈا پور
اشاعت کی تاریخ: 18th, March 2025 GMT
میری مذاکرات والی بات پر تنقید کی گئی جو افغان صوبہ میں ہیں ان کونکالنے کا مخالف ہوں
خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے حالات خراب ہونے کی ذمہ دار وفاقی حکومت ہے ، گفتگو
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کو شہریت دی جائے اور انہیں زبردستی بے دخل نہ کیا جائے ۔پشاور میں میڈیا سے گفتگو کے دوران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ افغان مہاجرین ہمارے پڑوسی ہیں اور انہیں ہم نے سینے سے لگایا تاہم پالیسی کے حوالے سے ہم ناکام رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین کو بے عزت کر کے واپس نہیں بھیجنا چاہیے اور انہیں زبردستی ڈی پورٹ کرنے سے گریز کرنا چاہیے ۔ علی امین گنڈا پور نے کہا کہ افغان مہاجرین کو پاکستان کی شہریت کیوں نہیں دی جاتی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ جو افغان ہمارے صوبہ میں ہیں ان کونکالنے کا مخالف ہوں۔ افغانستان کے ساتھ مذاکرات کے لیے وزارت خارجہ اور داخلہ کو ٹی او آرز بھیجے ہیں مگر ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا جبکہ میری مذاکرات والی بات پر تنقید کی گئی اور اُسے مذاق میں لیا گیا۔علی امین گنڈا پور نے کہا کہ مولانا حامد الحق کے قتل کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں جبکہ مفتی منیرشاکر کی ذمہ داری ایک گروپ نے قبول کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ صوبے کے حالات عمران خان حکومت میں خراب نہیں تھے لیکن ایک پارٹی کو ختم کرنے کے چکرمیں سب داؤ پرلگا دیا گیا ہے جس کی وجہ سے حالات خراب ہوئے ہیں، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے حالات مرکزی حکومت اوراداروں کی نااہلی سے خراب ہوئے ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ آرمی چیف سے امن وامان کی صورت حال پر بات کرچکا ہوں اورکوئی ساتھ نہیں دیتا، یہ لوگ اب بھی پی ٹی آئی کوتوڑنے میں لگے ہوئے ہیں، فارم 45 والوں کو اقتدارمیں لانا جمہوریت کے ساتھ مذاق ہے لیکن کوئی پرواہ نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ ڈرامے کی بات کرنے پربھی ایف آئی آر کردی گئی ہے ، حالات پرپردہ نہیں ڈالنا چاہیے ورنہ 71 والے حالات بن سکتے ہیں، ان حالات میں ہم کیسے آگے بڑھ سکتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ طورخم بارڈر کی بندش سے ماہانہ ایک ارب کانقصان ہمیں ہورہا ہے تجارت تباہ ہورہی ہے ۔ جوپالیسیاں ناکام ہوگئی ہیں انھیں چھوڑکر گے برھنا چاہیے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ 20 لاکھ افراد گزشتہ ایک سال میں ملک سے باہر جاچکے ہیں، تیمورسلیم جھگڑا اورکامران بنگش پر عمران سے بات ہوئی کمیٹی کی رپورٹ آنے پر فیصلہ ہوگا۔ علی امین گنڈا پور نے کہا کہ عمران خان سے ملاقاتوں کاوقت نہیں دیاجاتا، ایک سالہ کارکردگی کی بنیاد پر کابینہ میں ردوبدل ہوگا، رپورٹ میرے پاس آچکی ہے عمران خان کودوں گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کاجوبھی شخص پرویز خٹک سے ملاقات کرے گا تو وہ پارٹی میں نہیں رہے گا، میں نے محمودخان سے پارٹی سے جانے سے پہلے بات کی تھی اورانہیں منع بھی کیا تھا مگر انہوں نے بات نہیں مانی، پرویز خٹک نے بے شرمی کی ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: علی امین گنڈا پور نے افغان مہاجرین نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔
یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔
حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ