Daily Ausaf:
2026-06-03@06:15:04 GMT

بجلی کے بھاری بل ادا کرنیوالے صارفین کے لئے بڑی خوشخبری

اشاعت کی تاریخ: 20th, March 2025 GMT

کے الیکٹرک صارفین کو ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بڑا ریلیف ملنے کا امکان ہے۔

تفصیلات کے مطابق کے الیکڑک کی جنوری کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت ہوئی، کے الیکڑک نے 4.84 روپے فی یونٹ کمی کی درخواست کی تھی۔کے ای حکام نے کہا کے الیکڑک نے جنوری میں نیشنل گرڈ سے سے 1170 میگاواٹ بجلی لی ہے، سی پی پی اے سے زیادہ بجلی لینا بجلی قیمت میں کمی کی بڑی وجہ ہے۔

ممبر ٹیکنیکل رفیق شیخ نے کہا کے ای کی سالانہ بنیادوں پر گروتھ میں 8 فیصد کمی اور ماہانہ بنیادوں پر 3 فیصد کمی ہوئی ہے۔کے ای نے آئی پی پیز اور این ٹی ڈی سے 96 فیصد بجلی لی اور اپنے وسائل سے کے الیکڑک نے چار فیصد بجلی پیدا کی ، کے ای کو این ٹی ڈی سی سے ہی ساری بجلی لینے میں کونسی چیز روک رہی ہے جبکہ نیٹ میٹرنگ اور انڈسٹری کی کھپت میں کمی سے بجلی کی کھپت کم ہورہی ہے۔

نیپرا نے ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت مکمل کرلی اور فیصلہ محفوظ کرلیا، نیپرا اتھارٹی اعدادوشمار کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کرے گی .

خیال رہے الیکٹرک نے جنوری کی ایڈجسٹمنٹ میں4روپے84پیسےفی یونٹ کمی مانگی ہے اور من وعن منظوری سے صارفین کو 4 ارب 69 کروڑ50 لاکھ روپے کا ریلیف ملے گا۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

پڑھیں:

پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (Pakistan Institute of Development Economics) نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی ہے، جسے موجودہ معاشی حالات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں ایک اہم پالیسی تجویز قرار دیا جا رہا ہے۔

پائیڈ کی جانب سے جاری کردہ شواہد پر مبنی فریم ورک کے مطابق کم از کم اجرت میں اضافہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک وسیع معاشی اور سماجی ضرورت ہے، جو گھریلو سطح پر قوتِ خرید، غربت میں کمی، غیر رسمی روزگار کے رجحانات اور مجموعی معاشی استحکام پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر مالی سال 2026-27 کے لیے کم از کم اجرت 45 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جاتی ہے تو یہ موجودہ 40 ہزار روپے کی سطح کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافہ ہوگا۔ اس اضافے کو محنت کش طبقے کی مالی مشکلات میں کمی اور ان کی معاشی استعداد بہتر بنانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

پائیڈ کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کم از کم اجرت کی پالیسی کو محض لیبر ڈپارٹمنٹ تک محدود نہیں رکھا جا سکتا، کیونکہ اس کا تعلق براہ راست عام شہریوں کی روزمرہ زندگی، مہنگائی کے دباؤ اور مقامی مارکیٹ کی طلب سے جڑا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اجرت میں مناسب اضافہ نہ صرف مزدور طبقے کے معیارِ زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ پیداواری عمل میں بھی مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔

مزیدپڑھیں:حکومت کا ریئل اسٹیٹ پیکیج تیار، فروخت پر ٹیکس 4.5 فیصد سے 1.5 فیصد تک لانے کی تجویز

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط مہنگائی کی شرح تقریباً 6.19 فیصد رہی، تاہم اپریل 2026 میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی بڑھ کر 10.9 فیصد تک پہنچ گئی، جس نے عام شہریوں کی قوتِ خرید کو مزید متاثر کیا۔

 موجودہ معاشی صورتحال میں اجرتوں میں اضافہ ایک متوازن پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ کاروباری لاگت اور روزگار کے مواقع پر بھی اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔

پائیڈ کی سفارش کے بعد اب یہ معاملہ حکومتی سطح پر غور کے لیے پیش کیا جائے گا، جہاں حتمی فیصلہ بجٹ پالیسی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مزدوروں کیلئے خوشخبری، کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • رواں ماہ بجلی صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟ پاور ڈویژن نے بتا دیا
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار