پاکستان نے افغانستان کو برادر ملک سمجھا مگر کابل کی جانب سے خیر کے بجائے مایوسی ملی، میجر جنرل (ر) زاہد محمود
اشاعت کی تاریخ: 21st, March 2025 GMT
وی نیوز ایکسکلیوسیو میں دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل (ر) زاہد محمود نے کہا کہ پاکستان اس وقت حالات جنگ میں ہے۔ ہر پاکستانی اس جنگ میں دشمن کے نشانے پر ہے، جب کہ یہ سب کچھ انڈیا کر رہا۔ انڈیا پالیسی کے تحت دہشتگردی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔
انڈیا جنگ کے ذریعے کشمیر حاصل نہیں کر سکتاپاکستان اور انڈیا کا ایک ہی کنفلکٹ ہے اور وہ صرف کشمیر ہے، اور کشمیر کو انڈیا ڈائریکٹ جنگ کے ذریعے حاصل نہیں کر سکتا، اس لیے انڈیا اب دہشتگردی کے ذریعے ماحول خراب کر رہے ہیں۔
آج کی جنگ ماضی سے مختلف ہوگئیزاہد محمود نے کہا کہ آج کی جنگ ماضی سے مختلف ہوگئی ہے، انڈیا چاہتا ہے کہ پاکستان کشمیر کے مقدمے سے اور پیچھے ہٹے اور ساتھ ہی نیوکلیئر پاور پر کمپرومائز کرے، جبکہ انڈیا کی یہ دونوں خواہشیں پوری نہیں ہوسکتیں۔
کابل سے خیر کی خبریں کم ہی آتی ہیںانہوں نے افغانستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی عوام کی ساتھ تو پاکستانیوں کی لسانی، ثقافتی، مذہبی اورعلاقائی رشتے ہیں، اور دونوں جانب سے عوام ایک دوسرے کے لیے اچھے جذبات رکھتے ہیں، مگر کابل کی طرف پاکستان کے لیے خیر کی خبریں کم ہی آتی ہیں، بلکہ پاکستان کی تو اکثر اوقات کابل سے گلے شکوے بھی رہتے ہیں۔
طالبان بے امنی کے مرتکب ہو رہے ہیںدراصل کابل جنگی معیشت کا عادی ہوچکا ہے، کابل اسی لیے جنگ کو نہیں چھوڑ رہا، جس کا نقصان سرحد کے دونوں جانب ہوتا ہے۔ اب طالبان عوامی حکومت تو ہیں نہیں، جس کی وجہ سے وہ شُترِ بےمہار بے امنی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
فتنہ الخواج کی من مرضی کی شریعتانہوں نے دہشتگردوں کے حوالے سے کہا کہ فتنہ الخواج من مرضی کی شریعت کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں، اس کے وہ مساجد اور معصوم شہریوں تک کو نشانہ بناتے ہیں۔
امن کے لیے یکجان ہونا پڑے ہوگاتمام مسائل کا حل پوری قوم کی اتفاق میں ہے، ہر پاکستانی کو اس جنگ میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے، سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر امن کے لیے یکجان ہونا پڑے ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان انڈیا پاکستان کابل کشمیر میجر جنرل (ر) زاہد محمود نیوکلیئرپروگرام.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغانستان انڈیا پاکستان کابل میجر جنرل ر زاہد محمود زاہد محمود رہے ہیں کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔
انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔