دہشتگردوں کو واپس لانے کی پالیسی جنرل باجوہ، فیض اور بانی پی ٹی آئی کی تھی:خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 22nd, March 2025 GMT
اسلام آباد (آئی این پی )وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ دہشتگردوں کو واپس لانے کی پالیسی جنرل باجوہ، فیض اور بانی پی ٹی آئی کی تھی،میٹنگ میں لوگوں نے دہشتگردوں کو واپس لانے پر تحفظات کا اظہار کیا، مجھے نہیں یاد کہ آپریشن کیلئے 3ماہ کی مدت کا کہا گیا ہو۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی دور میں قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں شریک ہوا تھا، میں نے میٹنگ میں بات نہیں کی تھی اندازہ تھا کہ سب کچھ طے ہے، میٹنگ میں سوالات بھی ہوئے،گواہ ہوں کہ حصہ نہیں لیا تھا، میں محسن داوڑ بولا، دوبارہ بولنے کیلئے اٹھے تو ان کو بیٹھا دیا گیا۔میٹنگ میں لوگوں نے دہشتگردوں کو واپس لانے پر تحفظات کا اظہار کیا، دہشتگردوں کو واپس لانے کی پالیسی جنرل باجوہ، فیض اور بانی پی ٹی آئی کی تھی۔انہوں نے کہا ہمیں جتنی شدت کے ساتھ مخالفت کرنی چاہئے تھی شاید ہم اثرات کو صحیح طرح اندازہ نہیں کرسکے۔واپس لاکر بسائے گئے افراد کی تعداد 4 ہزار کے لگ بھگ بتائی جارہی ہے۔کچھ بندے اس پالیسی کے تحت آچکے تھے ، بلوچستان میں موجود دہشتگردوں کے تانے بانے ایران اور افغانستان میں بھی ہے۔مجھے نہیں یاد کہ آپریشن کیلئے 3ماہ کی مدت کا کہا گیا ہو، دہشتگردوں کے خلاف کائنٹکٹ آپریشن چل رہے ہیں۔میٹنگ میں اگر مدت سے معلق بات ہوئی تو ہم اس کو نہیں لیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
اغوا برائے تاوان کیس: پولیس نے منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا، ضمانت واپس لینے کی درخواست
اغوا برائے تاوان کیس میں پولیس نے منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا ہے اور ان کے وکیل نے عدالت سے ضمانت واپس لینے کی درخواست کی ہے۔
کراچی کی انسدادِ دہشت گردی کی منتظم عدالت میں اداکار منیب بٹ کے خلاف اغوا برائے تاوان کے مقدمے کی سماعت ہوئی، جہاں ان کے وکیل نے ضمانت واپس لینے کی درخواست دائر کر دی۔
سماعت کے دوران وکیلِ صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس نے اپنے چالان میں منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا ہے، لہٰذا ضمانت کی درخواست واپس لینے کی اجازت دی جائے۔
پولیس کے مطابق مقدمے میں ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے مدعی محمد متعال کو اغوا کر کے 24 لاکھ 94 ہزار روپے مالیت کی کرپٹو کرنسی اور دیگر سامان لوٹ لیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ منیب بٹ پر ملزمان کو مری میں رہائش دلوانے کا الزام تھا، تاہم تفتیش مکمل ہونے کے بعد انہیں چالان میں بے گناہ قرار دیا گیا۔
پولیس کے مطابق مقدمے میں ایک پولیس اہلکار غالب تاحال مفرور ہے، جبکہ دیگر ملزمان میں شاہد ستار، محمد سلیم، علیم اور وزیر محمد شامل ہیں۔
تحقیقات کے مطابق ملزمان نے 23 اپریل کو شاہراہِ فیصل سے محمد متعال کو اغوا کیا اور کرپٹو کرنسی سمیت دیگر قیمتی سامان چھیننے کے بعد انہیں کورنگی انڈسٹریل ایریا میں چھوڑ دیا تھا۔