وفاقی کابینہ، وزراء کی تنخواہ 2 لاکھ سے بڑھ کر 5لاکھ سے زائد ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, March 2025 GMT
نئے بل کی منظوری کے بعد وفاقی وزیر، وزیر مملکت اور مشیر کی تنخواہ 5لاکھ 19ہزار ہوگی، اس سے پہلے وفاقی وزیر کی تنخواہ 2 لاکھ اور وزیر مملکت کی 1لاکھ 80 ہزار تھی
وفاقی وزیر کی تنخواہ میں 159فیصد جبکہ وزیر مملکت اور مشیر برائے وزیراعظم کی تنخواہوں میں بھی 188 فیصد تک اضافہ کیا گیا ،وزراء کے الاؤنس، گاڑی، دفتر وغیرہ تنخواہوں کے علاوہ ہے
پاکستان کے انتہائی مخدوش معاشی حالا ت میں وفاقی کابینہ اراکین کی تنخواہوں اور الاؤنس میں اضافے کی منظوری دے دی گئی۔وفاقی وزیروں اور وزرائے مملکت اور مشیروں کی تنخواہوں میں 188فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے ، وفاقی وزراء نے اپنی اور وزرائے مملکت کی تنخواہوں میں اضافے کی سمری منظور کرلی۔وفاقی وزراء اور وزرائے مملکت کے الاؤنس اور تنخواہوں کے ایکٹ 1975 میں ترمیم کی گئی ،نئے بل کی منظوری کے بعد وفاقی وزیر، وزیر مملکت اور مشیر کی تنخواہ 5 لاکھ 19 ہزار ہوگی، اس سے پہلے وفاقی وزیر کی تنخواہ 2 لاکھ اور وزیر مملکت کی 1 لاکھ 80 ہزار تھی۔وفاقی وزیر کی تنخواہ میں 159 فیصد جبکہ وزیر مملکت اور مشیر برائے وزیراعظم کی تنخواہوں میں بھی 188 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے ، وفاقی کابینہ نے سرکولیشن کے ذریعے سمری کی منظوری دے دی۔ترمیم 1975 کے ایکٹ کی مختلف شقوں میں کی گئی، وزراء کے الاؤنس، گاڑی، دفتر وغیرہ تنخواہوں کے علاوہ ہے ، ترمیم کے بعد وزراء کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ متوقع ہے ۔ذرائع نے مزید بتایا کہ کابینہ کے چار فروری کے اجلاس سے مذکورہ سمری کو آخری وقت میں ایجنڈے سے نکال دیا گیا تھا، کابینہ ایجنڈے سے سمری کو نکالنے کا مقصد عوام اور میڈیا تنقید سے بچنا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
حکومت کا فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد:وفاقی حکومت نے صوبوں کی ضرورت پوری کرنے کے لیے فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس حوالے سے وفاقی وزیر غذائی تحفظ رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت عوام کو سستی اور معیاری گندم کی فراہمی کے لیے پُرعزم ہے، پاسکو کے گندم ذخائر فوری طور پر صوبوں کی ضروریات کے مطابق فراہم کیے جائیں گے۔
رانا تنویر حسین نے کہا کہ صوبوں کی ضرورت پوری کرنے کے لیے فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کی جائے گی،10 لاکھ ٹن گندم درآمد کر کے ملکی ضروریات پوری اور مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھا جائے گا۔