صدرمملکت نے پاک فوج کے 762افسروں اور نوجوانوں کو اعزازات سے نواز دیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, March 2025 GMT
صدرمملکت نے پاک فوج کے 762افسروں اور نوجوانوں کو اعزازات سے نواز دیا WhatsAppFacebookTwitter 0 23 March, 2025 سب نیوز
راولپنڈی(سب نیوز)صدرمملکت کی جانب سے مسلح افواج کے افسران اور سپاہیوں کے لیے فوجی اعزازات نوازا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کے افسران اور سپاہیوں کو دو ستارہ بصالت ،227کو تمغہ بصالت ،82 کو امتیازی اسناد،185 کو آرمی چیف تعریف کارڈ، 23 کو ہلال امتیاز ملٹری ،112 کو ستارہ امتیاز ملٹری اور 133 کو تمغہ امتیاز ملٹری دیئے گئے۔
ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ ستارہ بسالت حاصل کرنے والوں میں لیفٹیننٹ کرنل محمد عملی شوکت شہید، سپاہی صوبان مجید بلوچ شامل ہیں جبکہ سے لیفٹیننٹ کرنل سید کاشف علی شہید، لیفٹیننٹ کرنل محمد حسن حیدر شہید کو ستارہ بسالت عطا کیا گیا۔اسی طرح میجر بابر خان شہید، میجر عامر عزیز شہید، میجر رمیض امتیاز ،میجر علی رضا شاہ شہید، کیپٹن جہانگیر شہید، کیپٹن عامر احمد بدر شہید کو تمغہ بسالت کے اعزازات دیئے گئے ۔آئی ایس پی آر کے مطابق کیپٹن محمد اسامہ بن ارشد شہید، صوبیدار قیصر رحیم، صوبیدار عابداللہ شہید بھی تمغہ بسالت حاصل کرنے والوں میں شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پاک فوج
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔