پشاور، مسلح افراد کی سرعام عام فائرنگ، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا فوری نوٹس
اشاعت کی تاریخ: 24th, March 2025 GMT
پشاور:
گزشتہ روز پشاور کے علاقے زرگر آباد میں مسلح افراد کی جانب سے کھلے عام فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جس نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔ واقعے کا نوٹس وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، علی امین گنڈاپور نے فوراً لیا۔
وزیر اعلیٰ نے انسپکٹر جنرل پولیس کو ہدایت جاری کی کہ فائرنگ میں ملوث افراد کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔ ان کی ہدایات پر پولیس نے تیزی سے کارروائی کرتے ہوئے فائرنگ کرنے والوں کو گرفتار کر لیا۔
گرفتار افراد کے خلاف قانون کے مطابق مزید کارروائی کی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں: پشاور: نا معلوم افرد کا پولیس اہلکار پر ریموٹ کنٹرول بم سے حملہ
وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ کسی کو بھی قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے اور امن عامہ کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے اس واقعے کو ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے کہا کہ کھلے عام فائرنگ کر کے عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کا یہ واقعہ انتہائی ناپسندیدہ ہے۔
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ پولیس کو اس طرح کے واقعات کے مؤثر تدارک کے لیے اقدامات یقینی بنانے چاہییں تاکہ عوام کا امن و سکون برقرار رہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وزیر اعلی
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔