گفتگو کرتے ہوئے مرکزی صدر پی ایس ٹی نے کہا کہ غزہ میں اس وقت علاج معالجے کی کوئی سہولت موجود نہیں ہے، اسپتالوں میں بھی طبی امداد کا سامان ختم ہوچکا ہے، جنگ بندی اور امن معاہدے کی آڑ لے کر اسرائیل مسلسل مظلوم فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے، زمینی اور فضائی حملے ابھی بھی اسرائیل کی جانب سے کیے جا رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ اسلام مخالف قوتیں اپنے ناپاک عزائم کو سرانجام دینے کے لیے اسرائیل کے ذریعے غزہ میں مظلوم فلسطینیوں پر مظالم کے پہاڑ ڈھائے جا رہے ہیں، اسرائیل کی جانب سے امن معاہدے کی بھی پاسداری نہیں کی جا رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان سنی تحریک کے مرکزی صدر انجینئر محمد ثروت اعجاز قادری نے اسرائیل کی جانب سے مظلوم فلسطینیوں پر ظلم و جبر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ امن معاہدے کی آڑ لے کر اسرائیل نے اپنے چھپے ہوئے پنجے دکھانا شروع کر دیئے، ہر روز اسرائیل مظلوم فلسطینیوں کو شہید کررہا ہے، غزہ پر قبضہ کرنے کے لیے اسرائیل مسلسل حملے کر رہا ہے، آفرین ہیں مظلوم فلسطینیوں کی ہمت پر کہ وہ اب بھی اسرائیل کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ثروت اعجاز قادری کا کہنا تھا کہ غزہ اور مظلوم فلسطینیوں تک امداد پہنچانے کے تمام راستے اسرائیل نے بند کر دیئے ہیں، غزہ میں اس وقت علاج معالجے کی کوئی سہولت موجود نہیں ہے، اسپتالوں میں بھی طبی امداد کا سامان ختم ہوچکا ہے، جنگ بندی اور امن معاہدے کی آڑ لے کر اسرائیل مسلسل مظلوم فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے، زمینی اور فضائی حملے ابھی بھی اسرائیل کی جانب سے کیے جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے حملوں میں زخمی ہونے والوں جس ہسپتال بھی لے جایا جاتا ہے اسرائیل وہاں پر بھی حملہ کر دیتا ہے، اسرائیل کی اس طرح کی حرکتیں ایک بہت بڑی سازش کا پیش خیمہ معلوم ہو رہی ہیں، اسرائیلی فضائی حملوں میں 400 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، اسرائیل یہ سب کچھ اس لیے کر رہا ہے کہ بے گھر ہونے والے فلسطینی واپس اپنے گھر نہ آ جائیں، اسرائیل کی جانب سے غزہ لے جانے والے امدادی سامان پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے، اسرائیل یہ سب کچھ امریکہ کی ایماء پر کر رہا ہے، امریکہ عذاب الہی سے ڈرے کچھ عرصہ قبل ہی اللہ کا قہر امریکہ پر نازل ہوا تھا جس کے بعد امریکہ میں بھی تباہی مچ گئی تھی، رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں اسرائیل کا فلسطینیوں پر کئے جانے والا ظلم و جبر مظلوم روزے دار فلسطینیوں کی ہمت کو پوری امت مسلمہ سلام پیش کرتی ہے، تمام امت مسلمہ او آئی سی اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے پاکستان سنی تحریک اپیل کرتی ہے کہ غزہ میں انسانی حقوق کی پامالی کو روکا جائے اور غزہ کے مظلوموں کو خوراک کی فراہمی اسپتالوں میں دوائیوں کی فراہمی اور زخمیوں کو طبی سہولیات فراہم کی جائے، عالمی برادری کو غزہ کے مسئلے کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امن معاہدے کی آڑ لے کر اسرائیل اسرائیل کی جانب سے مظلوم فلسطینیوں فلسطینیوں کی کر رہا ہے

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم