پروڈیوسر کی بات سے اتنا پریشان ہوئی کہ اس کے پیٹ میں کانٹا گھونپنے کا دل چاہا، کلکی کیکلا
اشاعت کی تاریخ: 26th, March 2025 GMT
بالی ووڈ اداکارہ کلکی کیکلا نے کہا ہے کہ ایک مرتبہ وہ پروڈیوسر سے اتنا پریشان ہوئیں کہ دل چاہا کہ کانٹا انکے پیٹ میں مار دیں۔
ایک حالیہ انٹرویو میں اس وقت کا ذکر کیا جب ایک پروڈیوسر نے ان سے کہا کہ وہ اپنی مسکراہٹ کی لکیروں کو ٹھیک کرنے کےلیے فلرز لگوائیں۔
کلکی کا کہنا تھا کہ وہ اپنی جھریوں سے مطمئن ہیں اور اپنی شکل و صورت کو بدلنے کی کوئی خواہش نہیں رکھتیں۔
ایک انٹرویو میں کلکی نے انکشاف کیا کہ ایک پروڈیوسر نے انہیں چہرے پر فلرز لگوانے کا مشورہ دیا، یہ پروڈیوسر اپنی سابقہ گرل فرینڈ (جو کہ ایک معروف اداکارہ تھی) کے زیادہ بوٹاکس کروانے پر طنز بھی کر رہا تھا۔
کلکی کا کہنا تھا کہ “وہ کہنے لگا کہ تمہیں بس مسکراہٹ کے باعث چہرے پر بننے والی لکیروں کےلیے ہلکا سا فلر لگوانے کی ضرورت ہے۔ اس پر میرا دل چاہا کہ میں کانٹا انکے پیٹ میں گھونپ دوں کیونکہ اس وقت ہم دوپہر کے کھانے پر تھے۔ لیکن میں نے خود پر قابو پایا اور جواب دیا کہ تو مجھے کم ہنسنا اور کم مسکرانا چاہیے!”
انہوں نے مزید کہا کہ ان کا طریقہ ہمیشہ چیزوں کو ہلکے انداز میں لینا اور مزاح کے ساتھ جواب دینا رہا ہے۔
کلکی کوکلا نے اعتراف کیا کہ آج کی خواتین پر خوبصورتی کے غیر حقیقی معیارات پورا کرنے کا دباؤ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گیا ہے۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔