گوادر: کوسٹل ہائی وے پر فائرنگ 5 مسافر جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 27th, March 2025 GMT
گوادر کے علاقے کلمت میں کوسٹل ہائی وے پر مسلح افراد نے گاڑیوں کو روک لیا۔ مسافر بس سے شناخت کے بعد 5 مسافروں کو فائرنگ کرکے جاں بحق کردیا، ایک مسافر زخمی بھی ہوا۔
اسپتال میں جاں بحق افراد کی شناخت کی جا رہی ہے۔ لیویز ذرائع کے مطابق مسافر بس گوادر سے کراچی جا رہی تھی واقعے کی اطلاع ملتے ہی لیویز اور سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی اور علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی کلمت میں مسافروں پر فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمتوزیرِ اعظم نے واقعے میں 5 افراد کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کی بلندی درجات اور اہل خانہ کے لیے صبر کی دعا کی۔
وزیرِ اعظم نے واقعے میں زخمی ہونے والے فرد کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے اور واقعے کی تحقیقات کرکے ذمہ داران کا تعین اور قرار واقعی سزا یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
مزید پڑھیں: نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ میں خاص بات کیا ہے؟
وزیرِاعظم نے کہا کہ شرپسند عناصر بلوچستان کے امن و ترقی کے دشمن ہیں۔ شر پسند عناصر کی معصوم لوگوں کے خلاف بزدلانہ کاروائیاں ان کی حیوانیت کی واضح عکاسی کرتی ہیں۔ شرپسند عناصر کے ملک دشمن عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
وفاقی وزیر محسن نقوی کی گوادر میں مسافروں پر فائرنگ کی مذمتوفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے گوادر کے علاقے کلمت میں مسافروں پر فائرنگ کے واقعہ کی مذمت کی ہے۔ اپنے بیان میں محسن نقوی نے کہا کہ دہشتگردوں نے بزدلانہ کارروائی کرکے معصوم لوگوں کو نشانہ بنایا۔
ان کا کہنا تھا کہ شناخت کرکے مسافروں کو نشانہ بنانا بربریت اور درندگی ہے، بزدلانہ کارروائیاں دہشتگردی کے خلاف قوم کے عزم کو کمزور نہیں کرسکتیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بلوچستان کلمت کوسٹل ہائی وے گوادر وزیر اعظم محمد شہباز شریف وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان کلمت کوسٹل ہائی وے گوادر وزیر اعظم محمد شہباز شریف وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی پر فائرنگ محسن نقوی
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔